المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ ( سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ) . إِلَى آخِرِ السُّورَةِ باب: سورۂ سبح للہ ما فی السماوات وما فی الارض کے نزول کا سبب، آخر سورت تک۔
حدیث نمبر: 2416
أخبرَناه أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الأوزاعي، حدثني يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سلمة، حدثني عبد الله بن سَلَام، قال: كنا قعودًا عند النبي ﷺ، فقلنا: لو نعلم أيُّ الأعمال أحبُّ إلى الله، فذكر الحديثَ بنحوه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وأكبرُ ظني أنَّ الذي حملهما على تركه روايةُ الهِقْل بن زياد بخلاف رواية الوليد بن مسلم وغيره:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو ہم نے عرض کیا: ”کاش ہمیں معلوم ہو جاتا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے“، پھر راوی نے مذکورہ بالا حدیث کی طرح مکمل واقعہ ذکر کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میرا غالب گمان یہ ہے کہ جس چیز نے انہیں اسے چھوڑنے پر آمادہ کیا وہ ہِقْل بن زیاد کی روایت ہے جو ولید بن مسلم وغیرہ کی روایت کے خلاف ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، وقد رواه عن الوليد بن مسلم اثنان آخران هما هشام بن عمار ودُحيم عبد الرحمن بن إبراهيم الدمشقي.
درجۂ حدیث: سند "صحیح" ہے اور ولید بن مسلم سے ہشام بن عمار اور دُحیم نے بھی اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (4594) من طريق هشام بن عمار، عن الوليد بن مسلم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: ابن حبان نے اسے ہشام بن عمار کے طریق سے روایت کیا ہے۔
ورواية دُحيم عند ابن أبي عاصم في "الجهاد" (141)، والطبراني في "الكبير" (14989).
حوالہ / مصدر: دحیم کی روایت ابن ابی عاصم اور طبرانی کے ہاں موجود ہے۔
درجۂ حدیث: سند "صحیح" ہے اور ولید بن مسلم سے ہشام بن عمار اور دُحیم نے بھی اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (4594) من طريق هشام بن عمار، عن الوليد بن مسلم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: ابن حبان نے اسے ہشام بن عمار کے طریق سے روایت کیا ہے۔
ورواية دُحيم عند ابن أبي عاصم في "الجهاد" (141)، والطبراني في "الكبير" (14989).
حوالہ / مصدر: دحیم کی روایت ابن ابی عاصم اور طبرانی کے ہاں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2416 سے ماخوذ ہے۔