حدیث نمبر: 2418
أخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبوب بن موسى الأَنطاكي، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سلمة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن سَلَام قال: اجتمَعْنا فتذاكَرْنا أيُّكم يأتي رسولَ الله ﷺ فيسألَه: أيُّ الأعمالِ أحبُّ إلى الله؟ ثم تفرّقْنا وهِبْنا أن يأتيَه أحدٌ، فأرسل إلينا رسولُ الله ﷺ، فَجَمَعَنا، فجعل يُومِئُ بعضُنا إلى بعض، فقرأ علينا: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ إلى آخر السورة (2). قال أبو سلمة: فقرأها علينا عبد الله بن سلَام إلى آخرها، قال يحيى بن أبي كثير: وقرأها علينا أبو سلمة من أولها إلى آخرها، قال الأوزاعي: وقرأها علينا يحيى من أولها إلى آخرها، وقال أبو إسحاق: وقرأها علينا الأوزاعي من أولها إلى آخرها. قال محبوبٌ: وقرأها علينا أبو إسحاق من أولها إلى آخرها؛ يعني سورةَ الصَّفِّ.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم اکٹھے ہوئے اور ہم نے تذکرہ کیا کہ تم میں سے کون رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کرے گا کہ: ”اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے؟“ پھر ہم متفرق ہو گئے اور ہم میں سے ہر کوئی آپ ﷺ کے پاس جانے سے ڈرنے لگا (رعب کی وجہ سے)، تب رسول اللہ ﷺ نے خود ہماری طرف پیغام بھیجا اور ہمیں جمع فرمایا، ہم ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرنے لگے، پھر آپ ﷺ نے ہمارے سامنے یہ سورت تلاوت فرمائی: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِیزُ الْحَكِیمُ﴾ [سورة الصف: 1] (سورت کے آخر تک)۔ ابوسلمہ نے کہا: یہ سورت ہمیں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے آخر تک پڑھ کر سنائی، یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا: ہمیں ابوسلمہ نے شروع سے آخر تک سنائی، اوزاعی نے کہا: ہمیں یحییٰ نے شروع سے آخر تک سنائی، ابو اسحاق نے کہا: ہمیں اوزاعی نے شروع سے آخر تک سنائی، اور محبوب نے کہا: ہمیں ابو اسحاق نے یہ پوری سورت یعنی ”سورة الصف“ شروع سے آخر تک پڑھ کر سنائی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2418
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل محبوب بن موسى، وتابعه معاوية بن عمرو الأزدي فيما يأتي برقم (3848). أبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث.» [ترقيم الرساله 2418] [ترقيم الشركة 2400]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل محبوب بن موسى، وتابعه معاوية بن عمرو

الأزدي فيما يأتي برقم (3848). أبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث.

درجۂ حدیث: "حدیث صحیح" اور محبوب بن موسیٰ کی وجہ سے سند "قوی" ہے۔ ابو اسحاق الفزاری اس کے جلیل القدر راوی ہیں۔
وانظر ما قبله.
تفصیلِ روایت: اور اس سے پچھلی روایت ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2418 سے ماخوذ ہے۔