کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جب شوہر کو نکاح کا اختیار حاصل ہو تو عورت کے لیے اپنے مال میں خود مختارانہ تصرف جائز نہیں۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا هشام بن علي ومحمد بن غالب، قالا: حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، عن داود بن أبي هند وحَبيب المُعلِّم، عن عمرو بن شُعيب، عن أبيه، عن جده، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا يجُوزُ لامرأةٍ أمرٌ في مالها إذا مَلَكَ زوجُها عِصْمَتَها" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2299 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2299 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے اپنے مال میں (بغیر اجازتِ شوہر) تصرف کرنا جائز نہیں ہے جب وہ رشتہ نکاح میں منسلک ہو جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
سمعت عليَّ بن عمر الحافظ يقول: سمعت أبا بكر بن زياد الفقيه النَّيسابوري يقول: سمعت محمد بن علي حَمْدانَ الوَرَّاق يقول: قلت لأحمد بن حنبل: عمرو بن شعيب سمع من أبيه شيئًا؟ فقال: هو عمرو بن شعيب بن محمد بن عبد الله بن عمرو، وقد صحَّ سماعُ عمرو بن شعيب من أبيه شعيب، وصحَّ سماعُ شعيب من جده عبد الله بن عمرو.
حافظ طلحہ بابر
میں نے حافظ علی بن عمر الحافظ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے ابوبکر بن زیاد فقیہ نیشاپوری کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے محمد بن علی حمدان الوراق کو فرماتے سنا: میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ کیا عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے کچھ سنا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”وہ عمرو بن شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو ہیں، اور تحقیق عمرو بن شعیب کا اپنے والد شعیب سے سماع صحیح ہے، اور شعیب کا اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سماع صحیح ثابت ہے۔“
أخبرنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا شريك، عن عبد العزيز بن رُفَيع، عن أُميّة بن صفوان بن أميّة، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ استعار منه أَدرُعًا يوم حُنين، فقال: أَغَصْبٌ يا محمد؟ قال: "لا، بل عاريَّةٌ مَضْمونةٌ" (1). وله شاهدٌ عن ابن عباس:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ حنین کے دن ان سے کچھ زرہیں عاریت (ادھار) مانگیں، تو انہوں نے پوچھا: اے محمد (ﷺ)! کیا یہ غصب (زبردستی لینا) ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ ایسی عاریت ہے جس کی واپسی کی ضمانت دی جاتی ہے۔“
اس کا ایک شاہد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
اس کا ایک شاہد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
أخبرَناه أحمد بن سهل الفقيه ببُخَارى، حدثنا صالح بن محمد الحافظ، حدثنا إسحاق بن عبد الواحد القُرَشي، حدثنا خالد بن عبد الله، عن خالد الحَذّاء، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ استعارَ من صفوان بن أُميّة أدرُعًا وسِلاحًا في غزوة حُنين، فقال: يا رسول الله، أعاريّةٌ مُؤدّاةٌ؟ قال: "عاريّةٌ مُؤدّاةٌ" (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2301 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2301 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ حنین کے موقع پر سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کچھ زرہیں اور اسلحہ ادھار مانگا، تو انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ ایسی عاریت ہے جو واپس کر دی جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسی ہی عاریت ہے جو واپس کر دی جائے گی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سعيد بن عامر وعبد الوهاب بن عطاء، قالا: حدثنا سعيد بن أبي عَروبة، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة، عن النبي ﷺ قال: "على اليدِ ما أَخَذَت حتى تُؤدِّيَه" (2). ثم إنَّ الحسن نسيَ حديثَه، فقال: هو أمينُك لا ضمان عليه.
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2302 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2302 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہاتھ پر اس چیز کی ذمہ داری ہے جو اس نے لی، یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے۔“ پھر امام حسن بصری اپنی اس روایت کو بھول گئے اور فرمانے لگے کہ (جس کے پاس چیز رکھی جائے) وہ تو تمہارا امین ہے، اس پر کوئی ضمانت نہیں ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری کی شرط پر ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری کی شرط پر ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔