کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس نے تمہیں امانت دی ہو اسے امانت ادا کرو اور جو تم سے خیانت کرے تم اس سے خیانت نہ کرو۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا طَلْق بن غَنّام، حدثنا شَريك وقيس، عن أبي حَصِين، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "أدِّ الأمانةَ إلى من ائتَمَنَك، ولا تخُنْ من خانَكَ" (2). قال العباس: قلت لطَلْق: أكتُبُ شَريك وأَدَعُ قيس؟ قال: أنت أبصَرُ. حديثُ شريك عن أبي حَصِين صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ عن أنس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2296 - على شرط مسلم وشاهده
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2296 - على شرط مسلم وشاهده
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”امانت اسے لوٹاؤ جس نے تم پر بھروسہ کیا، اور اس کے ساتھ خیانت نہ کرو جس نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہو۔“
امام شریک کی یہ روایت امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
امام شریک کی یہ روایت امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا محمد بن الحسن بن قُتيبة، حدثنا أحمد بن الفضل العَسْقَلاني، حدثنا أيوب بن سُويد، حدثنا ابن شَوذَب، عن أبي التَّيّاح، عن أنس، قال: قال رسول الله ﷺ: "أدِّ الأمانةَ إلى من ائتَمَنَك، ولا تخُن مَن خانَك" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”امانت اسے ادا کرو جس نے تمہیں امین بنایا ہے، اور اس سے خیانت نہ کرو جس نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہو۔“
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنى؛ قالا: حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُريع، حدثنا حُسين المُعلِّم، عن عمرو بن شُعيب، عن طاووس، عن ابن عمر وابن عباس، عن النبي ﷺ قال: "لا يَحِلُّ للرجل يُعطي عَطِيَّةً أو يَهَبُ هِبةً، فيرجعُ فيها، إلّا الوالدَ فيما يُعطي ولدَه، ومَثَلُ الذي يُعطي العَطِيَّة ثم يَرجع فيها، كمَثَلِ الكلب يأكلُ، فإذا شَبِعَ قاءَ، ثم عاد في قَيئِه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، فإني لا أعلم خلافًا في عدالة عمرو بن شعيب، إنما اختلفوا في سماع أبيه من جده.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2298 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، فإني لا أعلم خلافًا في عدالة عمرو بن شعيب، إنما اختلفوا في سماع أبيه من جده.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2298 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کسی شخص کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ کوئی عطیہ یا ہبہ دے کر اسے واپس لے لے، سوائے والد کے جو اپنے بیٹے کو کچھ عطا کرے، اور اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر واپس لے لیتا ہے اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور جب سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے، پھر وہ اپنی ہی قے کی طرف لوٹتا (اور اسے چاٹتا) ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور عمرو بن شعیب کی عدالت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور عمرو بن شعیب کی عدالت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔