حدیث نمبر: 2331
أخبرنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا شريك، عن عبد العزيز بن رُفَيع، عن أُميّة بن صفوان بن أميّة، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ استعار منه أَدرُعًا يوم حُنين، فقال: أَغَصْبٌ يا محمد؟ قال: "لا، بل عاريَّةٌ مَضْمونةٌ" (1). وله شاهدٌ عن ابن عباس:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ حنین کے دن ان سے کچھ زرہیں عاریت (ادھار) مانگیں، تو انہوں نے پوچھا: اے محمد (ﷺ)! کیا یہ غصب (زبردستی لینا) ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ ایسی عاریت ہے جس کی واپسی کی ضمانت دی جاتی ہے۔“
اس کا ایک شاہد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2331
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذ إسناد ضعيف لاضطرابه كما قال الطحاوي في "شرح المشكل" بإثر (4459)، وابن عبد البر في "التمهيد" 12/ 41. ذلك لأنه اختُلف فيه على عبد العزيز بن رفيع، فمرة يروى عنه عن أمية بن صفوان بن أمية عن أبيه، كما حصل هنا في رواية شريك - وهو النخعي ...» [ترقيم الرساله 2331] [ترقيم الشركة 2313]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهذ إسناد ضعيف لاضطرابه كما قال الطحاوي في "شرح المشكل" بإثر (4459)، وابن عبد البر في "التمهيد" 12/ 41. ذلك لأنه اختُلف فيه على عبد العزيز بن رفيع، فمرة يروى عنه عن أمية بن صفوان بن أمية عن أبيه، كما حصل هنا في رواية شريك - وهو النخعي -، ومَن يروى عنه عن أناس من آل عبد الله بن صفوان مرسلًا، كما في رواية جرير بن عبد الحميد عنه، ومرة يُروى عنه عن عطاء بن أبي رباح عن ناس من آل صفوان مرسلًا، كما في رواية أبي الأحوص سلّام بن سليم عنه، ومرة يروى عنه عن ابن أبي مُلَيكة عن عبد الرحمن بن صفوان بن أمية مرسلًا، كما في رواية إسرائيل عنه.
درجۂ حدیث: یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر "حسن لغیرہ" ہے، لیکن یہ مخصوص سند "اضطراب" (راویوں کے اختلاف) کی وجہ سے ضعیف ہے۔ امام طحاوی (شرح المشکل 4459) اور ابن عبدالبر (التمہید 12/ 41) نے اس اضطراب کی نشاندہی کی ہے۔
فنی نکتہ: عبدالعزیز بن رفیع سے اس روایت کو بیان کرنے میں راویوں کا شدید اختلاف ہے؛ کبھی اسے موصول (صحابہ کے ذکر کے ساتھ) اور کبھی مرسل (صحابہ کے ذکر کے بغیر) بیان کیا گیا ہے۔
وقد صحَّ من طريق أخرى عن عطاء بن أبي رباح أنَّ المُعير كان يعلى بنَ أُمية، لا صفوان بن أمية، وأنَّ النبي ﷺ قال له: "عاريّة مؤدّاة"، ولم يقل له: "عاريّة مضمونة". ولهذا قال ابن حزم في "المحلى" 9/ 173: ليس في شيء مما رُوي في العارية خبر يصح غيره. يعني خبر يعلى بن أمية، وقال عبد الحق الإشبيلي في "أحكامه الوسطى" 3/ 319: حديث يعلى أصح.
تحقیقی نکتہ: عطاء بن ابی رباح کے ایک دوسرے صحیح طریق سے ثابت ہے کہ ادھار (عاریت) دینے والے "صفوان بن امیہ" نہیں بلکہ "یعلٰی بن امیہ" تھے، اور نبی ﷺ نے انہیں فرمایا تھا: "عاریت ادا کی جائے گی" (عاریہ مؤداہ)، یہ نہیں فرمایا تھا کہ "عاریت کی ضمانت دی جائے گی" (عاریہ مضمونہ)۔ اسی لیے ابن حزم اور عبدالحق الاشبیلی نے یعلٰی بن امیہ والی روایت کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے۔
قلنا: لكن ثبت من طريق أخرى ستأتي عند الحاكم (4417) من حديث جابر: أنَّ المُعير كان صفوانَ بنَ أمية، وأنَّ النبي ﷺ قال له: "عاريّة مضمونة"، وهذا هو المعروف المشهور عند أهل المغازي، فقد أسنده البيهقي في "السنن الكبرى" 7/ 19، وفي "دلائل النبوة" 5/ 119 - 121 من عدة روايات مرسلة عن موسى بن عقبة والزُّهْري وعروة بن الزُّبَير وغيرهم، وأسنده البيهقي أيضًا 6/ 89 عن محمد بن علي الباقر مرسلًا. وقال بإثره: بعض هذه الأخبار وإن كان مرسلًا فإنه يقوى بشواهده مع ما تقدم من الموصول؛ يعني حديث جابر الآتي برقم (4417).
متابعات و شواہد: ہم کہتے ہیں کہ حضرت جابر کی ایک روایت (جو حاکم 4417 میں آئے گی) سے ثابت ہے کہ عاریت دینے والے صفوان بن امیہ ہی تھے اور الفاظ "عاریہ مضمونہ" (ضمانت والی عاریت) ہی تھے۔ امام بیہقی نے بھی کئی مرسل روایات (زہری، عروہ وغیرہ سے) نقل کی ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں اور حضرت جابر کی موصول روایت کے ساتھ مل کر قوی ہو جاتی ہیں۔
قلنا: فلا يبعد أن يكون النبي ﷺ قد استعار من كلا الرجلين في حنين، ولكنه قال لأحدهما: "عاريّة مؤداة"، وهو يعلى بن أمية، وقال لصفوان: "عاريّة مضمونة". وقد احتمل الزيلعي في "نصب الراية" 4/ 117 أن تكونا واقعتين، إلّا أنه جعلهما لرجل واحد منهما، والأقرب أن تكونا واقعتين لكلا الرجلين، والله أعلم بالصواب.
مجموعی اصول / قاعدہ: یہ بات بعید نہیں کہ نبی ﷺ نے غزوہ حنین کے موقع پر ان دونوں حضرات (صفوان اور یعلٰی) سے سامان عاریت لیا ہو، اور ایک کو "ادائیگی" (مؤداہ) اور دوسرے کو "ضمان" (مضمونہ) کا لفظ فرمایا ہو۔ علامہ زیلعی (نصب الرایہ 4/ 117) نے بھی اسے دو الگ واقعات قرار دینے کا احتمال ظاہر کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (3562)، والنسائي (5747) من طرق عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (3562) اور نسائی (5747) نے یزید بن ہارون کے طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (3563) من طريق جرير بن عبد الحميد، عن عبد العزيز بن رفيع، عن أناس من آل عبد الله بن صفوان، مرسلًا.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (3563) نے جریر بن عبدالحمید کے طریق سے "مرسل" (یعنی صحابی کے ذکر کے بغیر) روایت کیا ہے۔
وأخرجه كذلك (3564) من طريق أبي الأحوص، عن عبد العزيز بن رفيع، عن عطاء بن أبي

رباح، عن ناس من آل صفوان، مرسلًا أيضًا.

حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (3564) نے ابوالاحوص کے طریق سے بھی "مرسل" ہی روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي أيضًا (5748) من طريق إسرائيل، عن عبد العزيز بن رفيع، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عبد الرحمن بن صفوان بن أمية، مرسلًا كذلك.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (5748) نے اسرائیل عن عبدالعزیز بن رفیع کے طریق سے "مرسل" روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (5746) من طريق هُشَيم، عن حجاج بن أرطاة، عن عطاء بن أبي رباح، مرسلًا. وفيه مع الإرسال عنعنة هُشَيم وحجاج.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (5746) نے ہشیم کے طریق سے مرسل روایت کیا ہے، مگر اس میں ہشیم اور حجاج کی "عنعنہ" (سماع کی صراحت نہ ہونا) کی وجہ سے کمزوری ہے۔
وأصح من هذه الطريق طريق قتادة، عن عطاء بن أبي رباح، عن صفوان بن يعلى بن أمية، غير أبيه، وهي عند أحمد 29/ (17950)، وأبي داود (3566)، والنسائي (5744) و (5745) من طريق همام بن يحيى، عن قتادة، به. بلفظ: "عاريّة مؤدّاة"، بدلٌ "عاريّة مضمونة".
ترجیحی قول: ان سب میں زیادہ صحیح طریق قتادہ کا ہے (احمد 29/ 17950، ابوداؤد 3566، نسائی 5744) جس میں "عاریہ مضمونہ" کے بجائے "عاریہ مؤداہ" (ادا کی جانے والی عاریت) کے الفاظ ہیں۔
وقال محمد بن إسماعيل الصنعاني في "سبل السلام" 2/ 99: المضمونة التي تُضمن إن تلفت بالقيمة، والمؤداة التي تجب تأديتها مع بقاء عينها، فإن تلفت لم تُضمن بالقيمة.
فقہی تعریف: علامہ صنعانی (سبل السلام 2/ 99) فرماتے ہیں کہ "مضمونہ" وہ ہے جس کے ضائع ہونے پر اس کی قیمت ادا کرنا لازم ہو، جبکہ "مؤداہ" وہ ہے جس کا اصلی حالت میں واپس کرنا واجب ہو، لیکن اگر (بغیر کسی زیادتی کے) ضائع ہو جائے تو قیمت لازم نہیں ہوتی۔
قلنا: فبين لفظ "مضمونة" ولفظ "مؤداة" اختلاف، إلّا إن حُمل لفظ "مضمونة" على معنى ضمانة الردِّ، كما قال أبو بكر الجصاص في "أحكام القرآن" 3/ 174، وابن القيم في "الزاد" 3/ 422، فلا يكون بمعنى ضمان القيمة عند التلف، وذلك أنَّ لفظة "مضمونة"، تحتمل معنيين: إما ضمانة الرد، أو ضمانة التلف، ويُجعل لفظ "مؤداة" مُرجِّحًا للمعنى الأول للفظ "مضمونة"، فلا يتعارض اللفظان، بل يُحملان على مَحملٍ واحدٍ.
تطبیق (عقلی ہم آہنگی): "مضمونہ" اور "مؤداہ" میں بظاہر اختلاف ہے، لیکن اگر "مضمونہ" کا مطلب "واپسی کی ضمانت" لیا جائے (جیسا کہ جصاص اور ابن قیم نے کہا ہے) نہ کہ "ضائع ہونے پر قیمت کی ضمانت"، تو دونوں الفاظ میں کوئی تعارض باقی نہیں رہتا اور دونوں کا ایک ہی مفہوم بن جاتا ہے۔
وإذا صرنا إلى الترجيح بين اللفظين على أساس افتراقهما في المعنى فلفظ "مُؤداة" أرجح، لحديث أبي أمامة الذي أخرجه أبو داود (3565)، وابن ماجه (2398)، والترمذي (2120)، والنسائي (5749) و (5750)، وصحَّحه الترمذي: "العاريّة مؤداة، والمِنحة مردودة، والدَّين مقضيٌّ، والزعيم غارم"، وإذا صحَّ ذلك كان قوله: "العارية مؤداة" غير مدفوع باتفاق بين أهل العلم، لأنّها مؤداة عند الجميع ما كانت باقية، فإذا تلفت فلا سبيل إلى أدائها، وإذا لم يكن إلى أدائها سبيل فغير جائز تضمينها بغير حجة، كما نبَّه عليه ابن المنذر في "الأوسط" بإثر (8630) و (8631)، وأبو بكر الجصاص في "أحكام القرآن" 3/ 174.
ترجیح: اگر دونوں میں ترجیح دینی ہو تو لفظ "مؤداہ" زیادہ راجح ہے کیونکہ ابوامامہ کی مشہور صحیح حدیث (ابوداؤد 3565، ترمذی 2120 وغیرہ) میں یہی لفظ آیا ہے: "عاریت ادا کی جائے گی، تحفہ واپس کیا جائے گا، قرض چکایا جائے گا اور ضامن تاوان بھرے گا"۔ ابن المنذر کے مطابق جب تک چیز موجود ہے اس کی واپسی پر سب کا اتفاق ہے، لیکن ضائع ہونے پر بغیر دلیل کے تاوان (ضمان) ڈالنا درست نہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2331 سے ماخوذ ہے۔