المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ أَمْرٌ فِي مَالِهَا ، إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا باب: جب شوہر کو نکاح کا اختیار حاصل ہو تو عورت کے لیے اپنے مال میں خود مختارانہ تصرف جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 2332
أخبرَناه أحمد بن سهل الفقيه ببُخَارى، حدثنا صالح بن محمد الحافظ، حدثنا إسحاق بن عبد الواحد القُرَشي، حدثنا خالد بن عبد الله، عن خالد الحَذّاء، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ استعارَ من صفوان بن أُميّة أدرُعًا وسِلاحًا في غزوة حُنين، فقال: يا رسول الله، أعاريّةٌ مُؤدّاةٌ؟ قال: "عاريّةٌ مُؤدّاةٌ" (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2301 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ حنین کے موقع پر سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کچھ زرہیں اور اسلحہ ادھار مانگا، تو انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ ایسی عاریت ہے جو واپس کر دی جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسی ہی عاریت ہے جو واپس کر دی جائے گی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف جدًّا، إسحاق بن عبد الواحد قال عنه أبو علي الحافظ: متروك الحديث، وقال الذهبي: واهٍ.
درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی ضعیف" (ضعیف جداً) ہے کیونکہ راوی اسحاق بن عبدالواحد "متروک الحدیث" اور "واہی" (کمزور) ہے۔
وأخرجه البيهقي 6/ 88 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (6/ 88) نے امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني (2951) من طريق صالح بن العلاء العبدي، عن إسحاق بن عبد الواحد، به.
حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (2951) نے صالح بن العلاء العبدی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وقد صحَّ عن ابن عباس أنه كان يُضمِّن العاريّة:
فتویٰ صحابی: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ وہ عاریت پر تاوان (ضمان) ڈالتے تھے۔
فقد أخرج عبد الرزاق (14791)، وابن أبي شيبة 6/ 141 و 142 من طريق ابن أبي مُلَيكة قال: سألت ابن عباس: أُضمِّن العارية، فقال: نعم إن شاء أهلها، وفي لفظ: إن تبعها صاحبها.
حوالہ / مصدر: عبدالرزاق (14791) اور ابن ابی شیبہ (6/ 141) میں مروی ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے ابن عباس سے پوچھا: کیا میں عاریت کا تاوان لوں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اگر اس کے مالکان چاہیں۔
وأخرج عبد الرزاق (14792) من طريق ابن أبي مُلَيكة أيضًا عن ابن عباس، قال: العارية تُغرم.
حوالہ / مصدر: عبدالرزاق (14792) کے مطابق ابن عباس نے فرمایا: "عاریت پر تاوان (جرمانہ) ہوگا"۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی ضعیف" (ضعیف جداً) ہے کیونکہ راوی اسحاق بن عبدالواحد "متروک الحدیث" اور "واہی" (کمزور) ہے۔
وأخرجه البيهقي 6/ 88 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (6/ 88) نے امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني (2951) من طريق صالح بن العلاء العبدي، عن إسحاق بن عبد الواحد، به.
حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (2951) نے صالح بن العلاء العبدی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وقد صحَّ عن ابن عباس أنه كان يُضمِّن العاريّة:
فتویٰ صحابی: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ وہ عاریت پر تاوان (ضمان) ڈالتے تھے۔
فقد أخرج عبد الرزاق (14791)، وابن أبي شيبة 6/ 141 و 142 من طريق ابن أبي مُلَيكة قال: سألت ابن عباس: أُضمِّن العارية، فقال: نعم إن شاء أهلها، وفي لفظ: إن تبعها صاحبها.
حوالہ / مصدر: عبدالرزاق (14791) اور ابن ابی شیبہ (6/ 141) میں مروی ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے ابن عباس سے پوچھا: کیا میں عاریت کا تاوان لوں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اگر اس کے مالکان چاہیں۔
وأخرج عبد الرزاق (14792) من طريق ابن أبي مُلَيكة أيضًا عن ابن عباس، قال: العارية تُغرم.
حوالہ / مصدر: عبدالرزاق (14792) کے مطابق ابن عباس نے فرمایا: "عاریت پر تاوان (جرمانہ) ہوگا"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2332 سے ماخوذ ہے۔