حدیث نمبر: 2333
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سعيد بن عامر وعبد الوهاب بن عطاء، قالا: حدثنا سعيد بن أبي عَروبة، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة، عن النبي ﷺ قال: "على اليدِ ما أَخَذَت حتى تُؤدِّيَه" (2). ثم إنَّ الحسن نسيَ حديثَه، فقال: هو أمينُك لا ضمان عليه.
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2302 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہاتھ پر اس چیز کی ذمہ داری ہے جو اس نے لی، یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے۔“ پھر امام حسن بصری اپنی اس روایت کو بھول گئے اور فرمانے لگے کہ (جس کے پاس چیز رکھی جائے) وہ تو تمہارا امین ہے، اس پر کوئی ضمانت نہیں ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری کی شرط پر ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2333
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وسماع الحسن» [ترقيم الرساله 2333] [ترقيم الشركة 2315] [ترقيم العلميه 2302]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح، وسماع الحسن - وهو البصري - من سَمُرة - وهو ابن جُندب - صحيح، كما بيناه عند الحديث المتقدم برقم (151).
درجۂ حدیث: یہ سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: امام حسن بصری کا سمرہ بن جندب سے سماع صحیح اور ثابت ہے، جیسا کہ ہم حدیث نمبر (151) کی تحقیق میں واضح کر چکے ہیں۔
وأخرجه أحمد 33/ (20131) عن عبد الوهاب بن عطاء الخفاف وحده، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (33/ 20131) نے تنہا عبدالوہاب بن عطاء الخفاف کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (20086) و (20156)، وأبو داود (3561)، وابن ماجه (2400)، والترمذي (1266)، والنسائي (5751) من طرق عن سعيد بن أبي عروبة، به. وقال الترمذي: حديث حسن.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد (3561)، ابن ماجہ (2400)، ترمذی (1266) اور نسائی (5751) نے سعید بن ابی عروبہ کے طرق سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن" قرار دیا ہے۔
وقال ابن المنذر في "الأوسط" بإثر: (8632): ظاهره يُوجب أن تُؤدي إليه ما أخذت، وإذا تلفت بغير جناية من المستعير لم يَجُز إلزام المستعير قيمتَها بغير حُجَّة.
فقہی اصول: ابن المنذر (الأوسط 8632) فرماتے ہیں کہ حدیث کا ظاہر یہ واجب کرتا ہے کہ جو چیز لی ہے اسے واپس کیا جائے، لیکن اگر وہ استعمال کرنے والے کی کسی غلطی یا جنایت کے بغیر ضائع ہو جائے تو اس پر قیمت لازم کرنا بغیر کسی ٹھوس دلیل کے جائز نہیں۔
قلنا: صحَّ عن الحسن البصري أنه يُضمِّن العاريّة إذا خالف المستعيرُ صاحبَ العاريّة، كما أخرجه ابن أبي شيبة أيضًا 6/ 142، ومثَّل الحسنُ البصري لذلك بأن يستعير دابَّة فيُكريها، كما أخرجه ابن أبي شيبة أيضًا 6/ 143، وذلك لأنه استعارها لينتفع بها هو، فإن أجّرها المستعير لغيره فعطبت ضمنها.
اہم نکتہ: حسن بصری سے صحیح طور پر مروی ہے کہ وہ تب تاوان ڈالتے تھے جب مستعیر (عاریت لینے والا) شرائط کی خلاف ورزی کرے۔ مثلاً: کسی نے جانور اپنی سواری کے لیے لیا لیکن اسے آگے کرائے پر دے دیا اور وہ ہلاک ہو گیا، تو اس صورت میں وہ ضامن (تاوان کا ذمہ دار) ہوگا۔
وإذا قلنا بالتفريق بين الأداء والضمان كما بيناه عند الحديث المتقدم برقم (2331) يكون الحسن البصري قد أفتى بمقتضى الرواية وليس بخلافها، لأنَّ معنى حديثه هنا أن يد المستعير يد أمانة

لا يد ضمان، فلا يضمن ما تلف ما دام لم يخالف صاحبَ العارية فيها.

خلاصہ بحث: اگر ہم "واپسی" (اداء) اور "تاوان" (ضمان) میں فرق کریں (جیسا کہ حدیث 2331 میں گزرا)، تو حسن بصری کا فتویٰ ان کی روایت کے عین مطابق ہے؛ یعنی مستعیر کا ہاتھ "امانت" کا ہاتھ ہے، جب تک وہ مالک کی بتائی ہوئی حدود کی خلاف ورزی نہ کرے، ضائع ہونے والی چیز کا تاوان اس پر نہیں ہوگا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2333 سے ماخوذ ہے۔