کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: دن کے وقت باغات کی حفاظت ان کے مالکوں پر ہے اور رات کے وقت مویشیوں کی حفاظت ان کے مالکوں پر ہے، اور مویشی جو نقصان کریں اس کا ذمہ بھی انہی پر ہے۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الجَوهَري ببغداد، حدثنا أبو الوليد محمد بن أحمد بن بُرْد، حدثنا محمد بن كثير المِصِّيصي، حدثنا الأوزاعي. وحدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا جُماهر بن محمد الغَسّاني بدمشق، حدثنا محمود بن خالد الدمشقي، حدثنا الفِرْيابي، عن الأوزاعي، عن الزُّهْري، عن حَرام بن محَيِّصةَ الأنصاري، عن البراء بن عازب، قال: كانت له ناقةٌ ضاريةٌ، فدخلت حائطًا، فأفسدَتْ فيه، فكُلِّم رسولُ الله ﷺ فيها، فقضى أنَّ حِفْظَ الحوائط بالنهار على أهلها، وأنَّ حِفْظَ الماشية بالليل على أهلها، وأنَّ على أهل الماشية ما أصابت ماشِيتُهم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، على خلاف فيه بين معمر والأوزاعي، فإنَّ معمرًا قال: عن الزُّهْري، عن حرام بن مُحَيِّصة، عن أبيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2303 - صحيح على خلاف فيه بين معمر والأوزاعي
هذا حديث صحيح الإسناد، على خلاف فيه بين معمر والأوزاعي، فإنَّ معمرًا قال: عن الزُّهْري، عن حرام بن مُحَيِّصة، عن أبيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2303 - صحيح على خلاف فيه بين معمر والأوزاعي
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ایک اونٹنی بڑی منہ زور تھی، وہ کسی کے باغ میں گھس گئی اور وہاں نقصان پہنچایا، رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا تو آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت باغوں کی حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور رات کے وقت مویشیوں کی حفاظت ان کے مالکوں پر ہے، اور مویشیوں نے رات کو جو نقصان پہنچایا اس کی تلافی مویشی والوں کے ذمہ ہوگی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ اس کی سند میں معمر اور اوزاعی کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ اس کی سند میں معمر اور اوزاعی کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الربيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا سعيد بن سالم القدّاح، أخبرنا ابن جُرَيج، أنَّ إسماعيل بن أُميّة أخبره عن عبد الملك بن عُمير، قال: حضرتُ أبا عُبيدة بن عبد الله بن مسعود وأتاه رجلان تَبايَعا سِلعةً، فقال أحدهما: أخذتُ بكذا وكذا، وقال الآخرُ: بعتُ بكذا وكذا، فقال أبو عُبيدة: حدثني عبد الله بن مسعود في مثل هذا قال: حضرتُ رسولَ الله ﷺ في مثل هذا، فأمر البائعَ أن يُستحلَف، ثم يخيَّر المبتاعُ، إن شاء أَخَذ، وإن شاء تَرَك (1).
هذا حديث صحيح إن كان سعيد بن سالم حفظ في إسناده عبدَ الملك بن عُمير.
هذا حديث صحيح إن كان سعيد بن سالم حفظ في إسناده عبدَ الملك بن عُمير.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت موجود تھا جب ایسا ہی ایک معاملہ پیش آیا (جس میں خریدار اور بیچنے والے میں اختلاف تھا)، تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ بیچنے والے سے حلف لیا جائے، پھر خریدار کو اختیار دیا جائے کہ اگر وہ چاہے تو سودا قبول کرے ورنہ اسے چھوڑ دے۔
یہ حدیث صحیح ہے بشرطیکہ سعید بن سالم نے اسے درست طور پر محفوظ رکھا ہو۔
یہ حدیث صحیح ہے بشرطیکہ سعید بن سالم نے اسے درست طور پر محفوظ رکھا ہو۔
فقد حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن إدريس الشافعي، فذكر الحديث، وفي آخره قال أحمد بن حنبل: أُخبرتُ عن هشام بن يوسف، عن ابن جُرَيج، عن إسماعيل بن أمية، عن عبد الملك بن عُبيد. قال أحمد بن حنبل: وقال حجّاج الأعور: عبد الملك بن عُبيدة (1) (2).
حافظ طلحہ بابر
امام حاکم فرماتے ہیں کہ ہمیں ابوبکر بن اسحاق نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن احمد بن حنبل سے، انہوں نے اپنے والد (امام احمد بن حنبل) سے اور انہوں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے یہ روایت بیان کی، اور اس کے آخر میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے ہشام بن یوسف کے واسطے سے ابن جریج سے خبر ملی، انہوں نے اسماعیل بن امیہ سے اور انہوں نے عبدالملک بن عبید سے روایت کی ہے۔ امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ حجاج اعور نے اس راوی کا نام ”عبدالملک بن عبیدہ“ بیان کیا ہے۔
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقِّي، حدثنا المُعافى بن سليمان، حدثنا موسى بن أعْيَن، عن يحيى بن أيوب، عن ابن جُرَيج، أنَّ أبا الزُّبَير حدثه عن جابر: أنَّ النبي ﷺ اشترى من أعرابي - حسبت أنه قال: من بني عامر بن صَعْصَعَة - حِمْلَ خَبَطٍ، فلما وجبَ له، قال له النبيُّ ﷺ: "اختَرْ"، فقال الأعرابي: إن رأيتُ كاليوم مثلَك بَيِّعًا، عَمْرَكَ اللهَ ممَّن أَنتَ؟ قال: "من قُريش" (1). تابعه ابن وهب عن ابن جُرَيج:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2305 - تابعه ابن وهب عن ابن جريج على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2305 - تابعه ابن وهب عن ابن جريج على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک اعرابی سے درختوں کے جھڑے ہوئے پتوں کا ایک بوجھ خریدا، جب بیع لازم ہو گئی تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”(اب بھی اگر چاہو تو سودا ختم کرنے کا) اختیار کر لو۔“ اعرابی نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آپ جیسا عمدہ سوداگر کبھی نہیں دیکھا، اللہ آپ کی عمر دراز کرے، آپ کس قبیلہ سے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں قریش سے ہوں۔“
حدَّثَناه أبو الوليد الفقيه، حدثنا عبد الله بن سليمان بن الأشعث، حدثنا مَوهَب بن يزيد بن مَوهَب، حدثنا ابن وهب، أخبرنا ابن جُرَيج، أنَّ أبا الزُّبَير المكي حدثه عن جابر: أنَّ النبيَّ ﷺ اشترى من أعرابي حِمْل خَبَطٍ، فلما وجبَ البيعُ، قال له النبيُّ ﷺ: "اختَرْ" فقال الأعرابي: عَمْرَكَ اللهَ بَيِّعًا (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک اعرابی سے درخت کے پتوں کا ایک بوجھ خریدا، جب سودا پکا ہو گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں (سودا منسوخ کرنے کا) اختیار ہے۔“ تو اعرابی نے کہا: اللہ آپ کی عمر دراز کرے، آپ تو بڑے ہی بہترین سوداگر ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔