حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العَدْل، قالا: أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: مَرَّ النبيُّ ﷺ برجلٍ يبيع طعامًا، فأعجبه، فأدخل يدَه فيه، فإذا هو بطعامٍ مَبْلُولٍ، فقال النبيُّ ﷺ: "ليس مِنّا مَن غَشَّنا" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا (3)، وقد رواه محمد وإسماعيل ابنا جعفر بن أبي كثير عن العلاء. أما حديث محمد بن جعفر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2153 - رواه مسلم بلفظ آخر_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا (3)، وقد رواه محمد وإسماعيل ابنا جعفر بن أبي كثير عن العلاء. أما حديث محمد بن جعفر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2153 - رواه مسلم بلفظ آخر_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو غلہ فروخت کر رہا تھا، وہ غلہ آپ ﷺ کو بظاہر پسند آیا، پس آپ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک اس کے اندر ڈالا تو وہ غلہ اندر سے تر (گیلا) تھا، تب نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، البتہ اسے محمد اور اسماعیل (جعفر بن ابی کثیر کے بیٹوں) نے بھی علاء سے روایت کیا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، البتہ اسے محمد اور اسماعیل (جعفر بن ابی کثیر کے بیٹوں) نے بھی علاء سے روایت کیا ہے۔
فأخبرَناه أبو النضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي (1)، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا محمد بن جعفر، أخبرني العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: جاء النبي ﷺ إلى السُّوق، فرأى حِنطةً مُصَبَّرة، فأدخل يدَه فيها، فوَجَدَ بَلَلًا، فقال: "ألا مَن غشَّنا فليس مِنّا" (2). وأما حديث إسماعيل بن جعفر بن أبي كثير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2154 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ وَأَمَّا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2154 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ وَأَمَّا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ بازار تشریف لائے تو آپ ﷺ نے غلے کا ایک ڈھیر دیکھا، آپ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک اس کے اندر ڈالا تو وہاں نمی پائی، تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
فأخبرَناه دَعْلَج بن أحمد السِّجْزي، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا يحيى بن أيوب. وحدثنا أبو الفضل بن إبراهيم، حدثنا إبراهيم بن محمد بن يزيد، حدثنا علي بن حُجر؛ قالا: حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ مَرَّ على صُبْرةٍ من طعام، فأدخل يدَه فيه، فنالتْ أصابعُه بَلَلًا، فقال: "ما هذا يا صاحبَ الطعام!؟ " فقال: أصابتْه السماءُ يا رسول الله، قال: "أفلا جعلتَه فوقَ الطعامِ حتى يَراهُ الناسُ"، ثم قال: "مَن غشَّ فليس مِنّي" (3). وقد أخرج مسلم حديث سُهيل عن أبيه عن أبي هريرة أنَّ النبي ﷺ قال: "مَن غَشّنا فليس مِنّا" (1). وأما شرحُ الحالِ في هذه الأحاديث فلم يخرجاه (2)، وكلُّها صحيحة على شرط مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2155 - رواه مسلم مختصرا
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2155 - رواه مسلم مختصرا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غلے کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس کے اندر داخل کیا تو آپ ﷺ کی انگلیاں تری سے آلودہ ہو گئیں، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے غلے کے مالک! یہ کیا معاملہ ہے؟“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس پر آسمان سے بارش ہو گئی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تم نے اس گیلے حصے کو غلے کے اوپر کیوں نہیں رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دھوکہ دیا وہ مجھ سے (میرے طریقے پر) نہیں۔“ اور امام مسلم نے سہیل کی اپنے والد سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت «مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا» ”جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں“ کے الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے، جبکہ ان احادیث میں واقعے کی یہ تمام تفصیلات شیخین نے نقل نہیں کیں، تاہم یہ تمام روایات امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں۔
یہ تمام احادیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں۔
یہ تمام احادیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو الجَوّاب الأحوص بن جَوّاب، حدثنا عمار بن رُزَيق، حدثنا عبد الله بن عيسى، عن عُمير بن سعيد، عن عمِّه، قال: خرج رسول الله ﷺ إلى البقيع، فرأى طعامًا يباع في غَرائر، فأدخل يده، فأخرج شيئًا كَرِهَه، فقال: "مَن غشّنا فليس مِنّا" (3).
هذا حديث صحيح، وعَمُّ عمير بن سعيد: هو الحارث بن سويد النَّخَعي (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2156 - صحيح
هذا حديث صحيح، وعَمُّ عمير بن سعيد: هو الحارث بن سويد النَّخَعي (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2156 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمیر بن سعید اپنے چچا (سیدنا حارث بن سوید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بقیع کی طرف تشریف لے گئے، وہاں آپ ﷺ نے بوریوں میں بکتا ہوا غلہ دیکھا، آپ ﷺ نے اس میں اپنا دستِ مبارک ڈالا تو ایسی چیز (رطوبت یا عیب) نکالی جسے آپ ﷺ نے ناپسند فرمایا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔“
یہ حدیث صحیح ہے، اور عمیر بن سعید کے چچا حارث بن سوید نخعی ہیں۔
یہ حدیث صحیح ہے، اور عمیر بن سعید کے چچا حارث بن سوید نخعی ہیں۔
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا أبو النضر هاشم بن القاسم، حدثنا أبو جعفر الرازي، عن يزيد بن أبي مالك، حدثنا أبو سِبَاع، قال: اشتريتُ ناقةً من دار واثِلةَ بن الأسْقَع، فلما خرجتُ بها أدركَني واثلةُ وهو يجُرُّ إزاره، فقال: يا عبدَ الله، اشتريتَ؟ قلتُ: نعم، قال: بُيِّنَ لك ما فيها؟ قلت: وما فيها؟ إنها لَسَمينةٌ ظاهرةُ الصِّحّة؟ قال: أردتَ بها سفرًا أو أردتَ بها لحمًا؟ قلت: أردتُ بها الحجَّ، قال: فارتجِعْها، فقال صاحبُها: ما أردتَ إلّا هذا أصلحك الله؟ تُفسِدُ عَليَّ، قال: إني سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "لا يَحِلُّ لأحدٍ يبيعُ شيئًا إلّا بيَّن ما فيه، ولا يَحِلُّ لمن عَلِمَ ذلك إلّا بَيَّنَه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2157 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2157 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابوسباع سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے گھر سے ایک اونٹنی خریدی، جب میں اسے لے کر روانہ ہوا تو سیدنا واثلہ اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے (تیزی سے) میرے پیچھے آئے اور پوچھا: اے اللہ کے بندے! کیا تم نے یہ خرید لی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے پوچھا: کیا تمہیں اس کے (عیب و نقص) کے بارے میں سب بتا دیا گیا تھا؟ میں نے عرض کیا: اس میں کیا عیب ہو سکتا ہے؟ یہ تو بظاہر بالکل فربہ اور تندرست ہے، انہوں نے پوچھا: تم نے اسے سفر کے لیے لیا ہے یا گوشت کے لیے؟ میں نے کہا: میں نے اسے حج کے لیے خریدا ہے، انہوں نے فرمایا: تو پھر اسے واپس کر دو، اس پر اونٹنی کے (سابقہ) مالک نے کہا: اللہ آپ کی اصلاح فرمائے، کیا آپ کا مقصد یہی ہے کہ میرا سودا خراب کر دیں؟ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی بھی شخص کے لیے کوئی چیز بیچنا جائز نہیں جب تک وہ اس میں موجود (عیب) کو واضح نہ کر دے، اور جس شخص کو (اس عیب کا) علم ہو اس کے لیے بھی (خاموش رہنا) جائز نہیں جب تک وہ اسے بیان نہ کر دے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا الأسود بن عامر، حدثنا شَريك، عن وائل بن داود، عن جُميع بن عُمير، عن خاله أبي بُردة، قال: سُئل رسول الله ﷺ: أيُّ الكسب أطيبُ أو أفضلُ؟ قال: "عَمَلُ الرجلِ بيده، وكلُّ بَيعٍ مَبْرُورٍ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2158 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2158 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
جمیع بن عمیر اپنے ماموں سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کون سی کمائی سب سے زیادہ پاکیزہ یا افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کا اپنے ہاتھ سے محنت کرنا، اور ہر وہ تجارت جو نیکی اور سچائی پر مبنی ہو۔“
حدثنا أبو العباس، حدثنا العباس بن محمد، حدثنا الأسود بن عامر، أخبرنا سفيان الثَّوْري، عن وائل بن داود، عن سعيد بن عمير، عن عمه، قال: سُئل رسول الله ﷺ: أيُّ الكسبِ أفضلُ؟ قال: "كَسْبٌ مَبْرُورٌ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ووائل بن داود وابنه بكر بن وائل ثقتان، وقد ذكر يحيى بن مَعِين أنَّ عمَّ سعيد بن عمير البراءُ بن عازب، وإذا اختلفَ الثَّوْري وشريكٌ، فالحُكم للثوريّ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2159 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ووائل بن داود وابنه بكر بن وائل ثقتان، وقد ذكر يحيى بن مَعِين أنَّ عمَّ سعيد بن عمير البراءُ بن عازب، وإذا اختلفَ الثَّوْري وشريكٌ، فالحُكم للثوريّ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2159 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سعید بن عمیر اپنے چچا (سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سی کمائی سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسی تجارت جو نیکی اور سچائی پر مبنی ہو۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، وائل بن داؤد اور ان کے فرزند بکر بن وائل دونوں ثقہ ہیں، اور یحییٰ بن معین نے صراحت کی ہے کہ سعید بن عمیر کے چچا براء بن عازب ہیں، اور جب سفیان ثوری اور شریک کی روایت میں اختلاف ہو جائے تو فیصلہ سفیان ثوری کے حق میں ہو گا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، وائل بن داؤد اور ان کے فرزند بکر بن وائل دونوں ثقہ ہیں، اور یحییٰ بن معین نے صراحت کی ہے کہ سعید بن عمیر کے چچا براء بن عازب ہیں، اور جب سفیان ثوری اور شریک کی روایت میں اختلاف ہو جائے تو فیصلہ سفیان ثوری کے حق میں ہو گا۔
وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أحمد بن النضر، حدثنا معاوية بن عمرو، أخبرنا المسعودي، عن وائل بن داود، عن عَبَاية بن رافع بن خَدِيج، عن أبيه، قال: قيل: يا رسول الله، أيُّ الكسبِ أطيبُ؟ قال: "كَسْبُ الرجلِ بيدِه، وكلُّ بَيعٍ مَبْرُورٍ" (1). وهذا خلافٌ ثالث على وائل بن داود، إلّا أنَّ الشيخين لم يُخرجا عن المسعودي، ومحلُّه الصِّدق (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2160 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2160 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبایہ بن رافع بن خدیج اپنے والد (سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کون سی کمائی سب سے زیادہ پاکیزہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا، اور ہر وہ تجارت جو نیکی اور دیانتداری پر مبنی ہو۔“
وائل بن داؤد کی روایت میں یہ تیسرا اختلاف ہے، تاہم شیخین نے مسعودی سے روایت نہیں لی حالانکہ وہ سچے ہیں۔
وائل بن داؤد کی روایت میں یہ تیسرا اختلاف ہے، تاہم شیخین نے مسعودی سے روایت نہیں لی حالانکہ وہ سچے ہیں۔
أخبرني الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة القَعْنبي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن أبي عمرو، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا لَزِمَ غَريمًا له بعشرة دنانير، فقال: والله لا أُفَارِقُك حتَّى تَقضيَني أو تأتيَني بحَمِيلٍ، قال: فتَحمَّل بها النبيُّ ﷺ، فأتاه بقَدْر ما وَعَدَه، فقال له النبيُّ ﷺ: "من أين أصبتَ هذا الذهبَ؟ " قال: من مَعْدِنٍ، قال: "لا حاجةَ لنا فيها، ليس فيها خَيرٌ"، فقَضَاها عنه رسولُ الله ﷺ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2161 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2161 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنے قرض دار کو دس دینار کے عوض پکڑ لیا اور کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک تم میرا حق ادا نہ کر دو یا کوئی ضامن (گارنٹر) نہ لے آؤ، راوی کہتے ہیں: پس نبی کریم ﷺ اس کے ضامن بن گئے، پھر وہ شخص اتنی (سونے کی مقدار) لے آیا جس کا اس نے وعدہ کیا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”تم نے یہ سونا کہاں سے حاصل کیا؟“ اس نے عرض کیا: ایک کان سے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں، اس میں کوئی خیر نہیں ہے“، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے (اپنی طرف سے) اس کا قرض ادا کر دیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔