حدیث نمبر: 2182
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العَدْل، قالا: أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: مَرَّ النبيُّ ﷺ برجلٍ يبيع طعامًا، فأعجبه، فأدخل يدَه فيه، فإذا هو بطعامٍ مَبْلُولٍ، فقال النبيُّ ﷺ: "ليس مِنّا مَن غَشَّنا" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا (3)، وقد رواه محمد وإسماعيل ابنا جعفر بن أبي كثير عن العلاء. أما حديث محمد بن جعفر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2153 - رواه مسلم بلفظ آخر_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو غلہ فروخت کر رہا تھا، وہ غلہ آپ ﷺ کو بظاہر پسند آیا، پس آپ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک اس کے اندر ڈالا تو وہ غلہ اندر سے تر (گیلا) تھا، تب نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، البتہ اسے محمد اور اسماعیل (جعفر بن ابی کثیر کے بیٹوں) نے بھی علاء سے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2182
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،الحُميدي: هو عبد الله بن الزُّبَير المكي، وسفيان: هو ابن عيينة، وعبد الرحمن: هو ابن يعقوب مولى الحُرَقة.» [ترقيم الرساله 2182] [ترقيم الشركة 2163] [ترقيم العلميه 2153]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. الحُميدي: هو عبد الله بن الزُّبَير المكي، وسفيان: هو ابن عيينة، وعبد الرحمن: هو ابن يعقوب مولى الحُرَقة.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند
صحیح ہے۔ اس میں الحمیدی، سفیان بن عیینہ اور عبدالرحمن بن یعقوب جیسے ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 12/ (7292)، وأبو داود (3452)، وابن ماجه (2224) من طريق سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. بلفظ: "ليس منا من غَشَّ".
حوالہ / مصدر: امام احمد، ابو داؤد اور ابن ماجہ نے سفیان بن عیینہ کی سند سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا: "جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں"۔
وانظر تالييه.
ہدایت: اس کے بعد آنے والی دو روایات ملاحظہ فرمائیں۔
(3) بل قد أخرجه مسلم (102) من طريق إسماعيل بن جعفر الآتية برقم (2184)!
تصحیح: امام مسلم نے اسے اپنی صحیح (حدیث 102) میں روایت کیا ہے، جو آگے نمبر (2184) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2182 سے ماخوذ ہے۔