حدیث نمبر: 2184
فأخبرَناه دَعْلَج بن أحمد السِّجْزي، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا يحيى بن أيوب. وحدثنا أبو الفضل بن إبراهيم، حدثنا إبراهيم بن محمد بن يزيد، حدثنا علي بن حُجر؛ قالا: حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ مَرَّ على صُبْرةٍ من طعام، فأدخل يدَه فيه، فنالتْ أصابعُه بَلَلًا، فقال: "ما هذا يا صاحبَ الطعام!؟ " فقال: أصابتْه السماءُ يا رسول الله، قال: "أفلا جعلتَه فوقَ الطعامِ حتى يَراهُ الناسُ"، ثم قال: "مَن غشَّ فليس مِنّي" (3). وقد أخرج مسلم حديث سُهيل عن أبيه عن أبي هريرة أنَّ النبي ﷺ قال: "مَن غَشّنا فليس مِنّا" (1). وأما شرحُ الحالِ في هذه الأحاديث فلم يخرجاه (2)، وكلُّها صحيحة على شرط مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2155 - رواه مسلم مختصرا
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غلے کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس کے اندر داخل کیا تو آپ ﷺ کی انگلیاں تری سے آلودہ ہو گئیں، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے غلے کے مالک! یہ کیا معاملہ ہے؟“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس پر آسمان سے بارش ہو گئی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تم نے اس گیلے حصے کو غلے کے اوپر کیوں نہیں رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دھوکہ دیا وہ مجھ سے (میرے طریقے پر) نہیں۔“ اور امام مسلم نے سہیل کی اپنے والد سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت «مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا» ”جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں“ کے الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے، جبکہ ان احادیث میں واقعے کی یہ تمام تفصیلات شیخین نے نقل نہیں کیں، تاہم یہ تمام روایات امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں۔
یہ تمام احادیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2184
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،موسى بن هارون: هو ابن عبد الله الحمّال، ويحيى بن أيوب: هو المَقابري، وأبو الفضل بن إبراهيم: هو محمد بن إبراهيم بن الفضل المزكّي النيسابوري، وإبراهيم بن محمد بن يزيد: هو إبراهيم بن محمد بن خالد بن يزيد المروَزي.» [ترقيم الرساله 2184] [ترقيم الشركة 2165] [ترقيم العلميه 2155]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. موسى بن هارون: هو ابن عبد الله الحمّال، ويحيى بن أيوب: هو المَقابري، وأبو الفضل بن إبراهيم: هو محمد بن إبراهيم بن الفضل المزكّي النيسابوري، وإبراهيم بن محمد بن يزيد: هو إبراهيم بن محمد بن خالد بن يزيد المروَزي.
حکم / درجۂ حدیث: سند
صحیح ہے۔ اس میں موسیٰ بن ہارون اور یحییٰ بن ایوب المقابری جیسے ثقہ حفاظ شامل ہیں۔
وأخرجه مسلم (102)، والترمذي (1315) عن علي بن حُجر، ومسلم (102) عن يحيى بن أيوب المقابري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم اور ترمذی نے اسی سند کے ساتھ اپنی کتب میں روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (102) عن قتيبة بن سعيد، وابن حبان (1905) من طريق موسى بن إسماعيل، كلاهما عن إسماعيل بن جعفر، به.

وصُبْرة الطعام، بضم الصاد المهملة وسكون الباء: ما جُمع من الطعام بلا كيل ولا وزن، بعضه فوق بعض.

تشریح: امام مسلم اور ابن حبان نے اسے اسماعیل بن جعفر کے طریق سے روایت کیا۔ "صُبْرَہ" اس اناج کے ڈھیر کو کہتے ہیں جو بغیر ناپ تول کے ایک جگہ جمع کر دیا جائے۔
(1) أخرجه مسلم (101) من طريقين عن سهيل - وهو ابن أبي صالح السمّان - به.
حوالہ / مصدر: امام مسلم نے اسے سہیل بن ابی صالح کے دو مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
(2) بل قد أخرجه مسلم كما قدَّمنا من طريق إسماعيل بن جعفر عن العلاء.
تصحیح: حاکم کا اسے مسلم میں نہ ہونا کہنا درست نہیں، کیونکہ ہم واضح کر چکے ہیں کہ مسلم میں یہ العلاء کے طریق سے موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2184 سے ماخوذ ہے۔