المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا باب: جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
أخبرني الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة القَعْنبي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن أبي عمرو، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا لَزِمَ غَريمًا له بعشرة دنانير، فقال: والله لا أُفَارِقُك حتَّى تَقضيَني أو تأتيَني بحَمِيلٍ، قال: فتَحمَّل بها النبيُّ ﷺ، فأتاه بقَدْر ما وَعَدَه، فقال له النبيُّ ﷺ: "من أين أصبتَ هذا الذهبَ؟ " قال: من مَعْدِنٍ، قال: "لا حاجةَ لنا فيها، ليس فيها خَيرٌ"، فقَضَاها عنه رسولُ الله ﷺ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2161 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنے قرض دار کو دس دینار کے عوض پکڑ لیا اور کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک تم میرا حق ادا نہ کر دو یا کوئی ضامن (گارنٹر) نہ لے آؤ، راوی کہتے ہیں: پس نبی کریم ﷺ اس کے ضامن بن گئے، پھر وہ شخص اتنی (سونے کی مقدار) لے آیا جس کا اس نے وعدہ کیا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”تم نے یہ سونا کہاں سے حاصل کیا؟“ اس نے عرض کیا: ایک کان سے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں، اس میں کوئی خیر نہیں ہے“، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے (اپنی طرف سے) اس کا قرض ادا کر دیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
حکم / درجۂ حدیث: عمرو بن ابی عمرو کی وجہ سے یہ سند
جید (بہتر) ہے، وہ صدوق راوی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (3328) عن عبد الله بن مسلمة القعنبي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد نے قعنبی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2406) عن محمد بن الصبّاح، عن عبد العزيز بن محمد الدَّراوردي، به. وسيأتي برقم (2259).
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے روایت کیا اور یہ دوبارہ نمبر (2259) پر آئے گی۔
والحَميل: الكفيلُ والضامنُ.
لغوی تشریح:
"حمیل" سے مراد ضامن یا گارنٹی دینے والا (Guarantor) ہے۔
والمعدن: الموضع الذي يُستخرج منه جواهرُ الأرض كالذهب والفضة والنحاس وغير ذلك.
لغوی تشریح:
"معدن" (کان) وہ جگہ ہے جہاں سے زمین کے جواہر جیسے سونا، چاندی اور تانبا وغیرہ نکالے جاتے ہیں۔