المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا باب: جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا أبو النضر هاشم بن القاسم، حدثنا أبو جعفر الرازي، عن يزيد بن أبي مالك، حدثنا أبو سِبَاع، قال: اشتريتُ ناقةً من دار واثِلةَ بن الأسْقَع، فلما خرجتُ بها أدركَني واثلةُ وهو يجُرُّ إزاره، فقال: يا عبدَ الله، اشتريتَ؟ قلتُ: نعم، قال: بُيِّنَ لك ما فيها؟ قلت: وما فيها؟ إنها لَسَمينةٌ ظاهرةُ الصِّحّة؟ قال: أردتَ بها سفرًا أو أردتَ بها لحمًا؟ قلت: أردتُ بها الحجَّ، قال: فارتجِعْها، فقال صاحبُها: ما أردتَ إلّا هذا أصلحك الله؟ تُفسِدُ عَليَّ، قال: إني سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "لا يَحِلُّ لأحدٍ يبيعُ شيئًا إلّا بيَّن ما فيه، ولا يَحِلُّ لمن عَلِمَ ذلك إلّا بَيَّنَه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2157 - صحيحابوسباع سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے گھر سے ایک اونٹنی خریدی، جب میں اسے لے کر روانہ ہوا تو سیدنا واثلہ اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے (تیزی سے) میرے پیچھے آئے اور پوچھا: اے اللہ کے بندے! کیا تم نے یہ خرید لی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے پوچھا: کیا تمہیں اس کے (عیب و نقص) کے بارے میں سب بتا دیا گیا تھا؟ میں نے عرض کیا: اس میں کیا عیب ہو سکتا ہے؟ یہ تو بظاہر بالکل فربہ اور تندرست ہے، انہوں نے پوچھا: تم نے اسے سفر کے لیے لیا ہے یا گوشت کے لیے؟ میں نے کہا: میں نے اسے حج کے لیے خریدا ہے، انہوں نے فرمایا: تو پھر اسے واپس کر دو، اس پر اونٹنی کے (سابقہ) مالک نے کہا: اللہ آپ کی اصلاح فرمائے، کیا آپ کا مقصد یہی ہے کہ میرا سودا خراب کر دیں؟ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی بھی شخص کے لیے کوئی چیز بیچنا جائز نہیں جب تک وہ اس میں موجود (عیب) کو واضح نہ کر دے، اور جس شخص کو (اس عیب کا) علم ہو اس کے لیے بھی (خاموش رہنا) جائز نہیں جب تک وہ اسے بیان نہ کر دے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
حکم / درجۂ حدیث: یہ سند
ضعیف ہے کیونکہ ابو سباع مجہول ہے اور ابو جعفر الرازی کا یزید بن ابی مالک سے سماع ثابت نہیں (انقطاع ہے)۔
وأخرجه أحمد 25/ (16013) عن أبي النضر هاشم بن القاسم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے ابو النضر ہاشم بن القاسم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج المرفوع منه ابن ماجه (2247) من طريق بقية بن الوليد، عن معاوية بن يحيى، عن
مكحول وسليمان بن موسى، عن واثلة، رفعه بلفظ: "من باع عيبًا لم يُبيّنه لم يَزَل في مقت الله، ولم تزل الملائكة تلعنه". وإسناده ضعيف أيضًا لضعف بقية وشيخه معاوية بن يحيى.
حکم / درجۂ حدیث: ابن ماجہ نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا: "جس نے عیب دار چیز چھپا کر بیچی، وہ اللہ کی ناراضگی میں رہتا ہے"۔ مگر اس کی سند بھی بقیہ اور معاویہ کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
ولقوله: "لا يحل لأحد يبيع شيئًا إلّا بيَّن ما فيه" شاهد من حديث عقبة بن عامر الذي تقدم برقم (2181)، وإسناده حسن.
شواہد: اس حصے کے لیے عقبہ بن عامرؓ کی حدیث نمبر (2181) ایک
حسن شاہد ہے۔