المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا باب: جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
حدیث نمبر: 2183
فأخبرَناه أبو النضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي (1)، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا محمد بن جعفر، أخبرني العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: جاء النبي ﷺ إلى السُّوق، فرأى حِنطةً مُصَبَّرة، فأدخل يدَه فيها، فوَجَدَ بَلَلًا، فقال: "ألا مَن غشَّنا فليس مِنّا" (2). وأما حديث إسماعيل بن جعفر بن أبي كثير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2154 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_
وَأَمَّا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ بازار تشریف لائے تو آپ ﷺ نے غلے کا ایک ڈھیر دیکھا، آپ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک اس کے اندر ڈالا تو وہاں نمی پائی، تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تصحف في (ز) و (ب) إلى: العنبري، وإنما هو العَنَزي كما في (ص) و (ع)، وهو أحمد بن محمد بن عَبْدُوس، له ترجمة في "سير أعلام النبلاء" 15/ 519.
نام کی تصحیح: نسخوں میں "العنبری" لکھا تھا جو غلط ہے، درست
"العنزی" ہے، جو احمد بن محمد بن عبدوس ہیں۔
(2) إسناده صحيح كسابقه.
حکم / درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح اس کی سند بھی
صحیح ہے۔
وقوله: "مُصبَّرة" أي: مُكدَّسَة.
لغوی تشریح:
"مُصَبَّرَہ" سے مراد کھانے پینے کی وہ چیزیں ہیں جن کا ڈھیر لگا دیا گیا ہو۔
نام کی تصحیح: نسخوں میں "العنبری" لکھا تھا جو غلط ہے، درست
"العنزی" ہے، جو احمد بن محمد بن عبدوس ہیں۔
(2) إسناده صحيح كسابقه.
حکم / درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح اس کی سند بھی
صحیح ہے۔
وقوله: "مُصبَّرة" أي: مُكدَّسَة.
لغوی تشریح:
"مُصَبَّرَہ" سے مراد کھانے پینے کی وہ چیزیں ہیں جن کا ڈھیر لگا دیا گیا ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2183 سے ماخوذ ہے۔