حدیث نمبر: 2189
وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أحمد بن النضر، حدثنا معاوية بن عمرو، أخبرنا المسعودي، عن وائل بن داود، عن عَبَاية بن رافع بن خَدِيج، عن أبيه، قال: قيل: يا رسول الله، أيُّ الكسبِ أطيبُ؟ قال: "كَسْبُ الرجلِ بيدِه، وكلُّ بَيعٍ مَبْرُورٍ" (1). وهذا خلافٌ ثالث على وائل بن داود، إلّا أنَّ الشيخين لم يُخرجا عن المسعودي، ومحلُّه الصِّدق (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2160 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبایہ بن رافع بن خدیج اپنے والد (سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کون سی کمائی سب سے زیادہ پاکیزہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا، اور ہر وہ تجارت جو نیکی اور دیانتداری پر مبنی ہو۔“
وائل بن داؤد کی روایت میں یہ تیسرا اختلاف ہے، تاہم شیخین نے مسعودی سے روایت نہیں لی حالانکہ وہ سچے ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2189
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن المسعودي - وهو عبد الرحمن بن عبد الله بن عتبة بن مسعود الهُذلي - كان قد اختلط، وقد خالف في روايته هذا الحديث جميع أصحاب وائل ابن داود كما تقدم في الطريقين السابقتين، إذ رووه عن وائل عن سعيد بن عمير، ولهذا خطّأ ...» [ترقيم الرساله 2189] [ترقيم الشركة 2170] [ترقيم العلميه 2160]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن المسعودي - وهو عبد الرحمن بن عبد الله بن عتبة بن مسعود الهُذلي - كان قد اختلط، وقد خالف في روايته هذا الحديث جميع أصحاب وائل ابن داود كما تقدم في الطريقين السابقتين، إذ رووه عن وائل عن سعيد بن عمير، ولهذا خطّأ روايتَه هذه البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 263، وقال الدارقطني في "الغرائب والأفراد" كما في "أطرافه" لابن طاهر المقدسي 3/ 64 (2060): تفرَّد به المسعوديُّ، أسنده عن رافع بن خديج.
حکم / درجۂ حدیث: یہ
حسن لغیرہ ہے۔ راوی "مسعودی" ثقہ ہیں مگر آخری عمر میں ان کا حافظہ کمزور (اختلاط) ہوگیا تھا، اور انہوں نے اس حدیث کو رافع بن خدیجؓ سے منسوب کر کے دیگر راویوں کی مخالفت کی ہے۔
وقال الحافظ في "التلخيص" 3/ 3: قول الحاكم في هذا الإسناد: عن أبيه، فيه تجوُّز، فإنه عباية بن رفاعة بن رافع بن خديج. قلنا: وكذلك وقع في رواية بعض من خرَّجه غير الحاكم: عن أبيه، تجوُّزًا.
سندی نکتہ: حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ سند میں "عن ابیہ" (اپنے باپ سے) کہنا وسعت کے طور پر ہے، مراد عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (17265) عن يزيد بن هارون، عن المسعودي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے یزید بن ہارون عن المسعودی کی سند سے روایت کیا ہے۔
(1) هو وإن كان محلُّه الصدق لكنه اختلط كما قدَّمنا، وخالف غيره، فتأكد أنَّ روايته لهذا الحديث في الاختلاط.
راوی کی حالت: مسعودی سچے تھے مگر اختلاط کی وجہ سے ان کی یہ روایت وہم پر مبنی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2189 سے ماخوذ ہے۔