کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: ہمیشہ قرآن میں مشغول رہنے والے (حال و مرتحل) کی فضیلت اور اس کی وضاحت۔
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدَّقّاق ببغداد، حدثنا أحمد بن حيّان بن مُلاعِب، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلابي، حدثنا صالح المُرِّي، حدثنا قَتَادة، عن زُرارة بن أَوفى، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، أيُّ الأعمال أفضلُ؟ قال: "الحالُ المُرتحِلُ" قال: يا رسول الله، وما الحالُّ المرتحِلُ؟ قال: "الذي يَضرِبُ مِن أولِ القرآنِ إلى آخرِه، ومِن آخرِه إلى أولِه" (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کون سا عمل سب سے زیادہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «الحال المُرتحل»، اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! «الحال المُرتحل» سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جو قرآن کے شروع سے آخر تک اور پھر آخر سے شروع تک (تلاوت) کرتا رہتا ہے۔“
وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنّى، حدثنا عمرو بن مرزوق، حدثنا صالح المُرِّي. وأخبرني أبو بكر بن قريش، أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو كُريب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا صالح المُرِّي، عن قَتَادة عن زُرارة بن أوفى العامِري، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، أيُّ الأعمال أفضلُ؟ قال: "الحالُّ المُرتحِلُ" قال: يا رسول الله، وما الحالُّ المُرتحِل؟ قال: "صاحبُ القرآن يَضرِبُ من أوّلِه حتى يبلغَ آخرَه، ومن آخرِه حتى يبلغَ أوّلَه، كلما حَلَّ ارتحَلَ" (1). تفرَّد به صالحٌ المرِّي، وهو من زُهّاد أهل البصرة، إلَّا أنَّ الشيخين لم يخرجاه. وله شاهد من حديث أبي هريرة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کون سا عمل سب سے زیادہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «الحال المُرتحل»، اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! «الحال المُرتحل» کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صاحبِ قرآن جو شروع سے تلاوت کرے یہاں تک کہ آخر تک پہنچ جائے، اور آخر سے شروع کرے یہاں تک کہ اول تک پہنچ جائے، وہ جب بھی منزل پر اترتا ہے تو دوبارہ کوچ کر جاتا ہے۔“
اس روایت میں صالح مری منفرد ہیں اور وہ بصرہ کے زاہدین میں سے ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس روایت میں صالح مری منفرد ہیں اور وہ بصرہ کے زاہدین میں سے ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو علي الحسينُ بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن سعيد بن بكر (2)، حدثنا المِقدام بن داود بن تَلِيد الرُّعَيني، حدثنا خالد بن نِزار، حدثني الليث بن سعد، حدثني مالك بن أنس، عن ابن شهاب، عن الأعرج، عن أبي هريرة قال: قام رجلٌ إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله، أيُّ العمل أفضلُ - أو أيُّ العمل أحب إلى الله -؟ قال: "الحالُّ المُرتحِلُ، الذي يفتحُ القرآنَ ويَختِمُه، صاحبُ القرآن يَضرِبُ من أولِه إلى آخرِه، ومن آخرِه إلى أولِه، كلَّما حَلَّ ارتحَلَ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کون سا عمل سب سے زیادہ افضل ہے - یا اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے -؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ” «الحال المُرتحل» ، وہ جو قرآن کو شروع کرتا ہے اور اسے ختم کرتا ہے، صاحبِ قرآن شروع سے آخر تک اور آخر سے شروع تک پڑھتا ہے، وہ جب بھی (منزل پر) اترتا ہے تو (دوبارہ) کوچ کر جاتا ہے۔“
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العَدْل، قالا: حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو بن دينار، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عُبيد الله بن أبي نَهيكٍ، عن سعد قال: أتيتُه فسألَني مَن أنتَ؟ فأخبرتُه عن نَسَبي، فقال سعد: تجّارٌ كَسَبَةٌ، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "ليس مِنا من لم يَتَغنَّ بالقرآن" (2). قال سفيان: يعني: يَستغني به (1). وعند سفيان بن عُيينة فيه إسنادٌ آخرُ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (عبید اللہ کہتے ہیں) میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے اپنا نسب بتایا تو انہوں نے کہا: تم کمال کے تاجر ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”وہ ہم میں سے نہیں جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے۔“ سفیان کہتے ہیں: اس کا مطلب ہے کہ وہ قرآن کے ذریعے (دنیا سے) بے نیاز ہو جائے۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، حدثنا سفيان بن عيينة. وحدثني علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عُمر، حدثنا سفيان، عن ابن جُرَيج، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عُبَيد الله بن أبي نَهيكٍ، قال: قال له سعد: تجّارٌ كَسَبَةٌ، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "ليس مِنّا من لم يَتغَنَّ بالقرآن" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا الإسناد. ورواه سعيد بن حسان المخزُومي، عن عبد الله بن أبي مُلَيكة، عن عُبَيد الله بن أبي نَهيكٍ:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا الإسناد. ورواه سعيد بن حسان المخزُومي، عن عبد الله بن أبي مُلَيكة، عن عُبَيد الله بن أبي نَهيكٍ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”وہ ہم میں سے نہیں جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى؛ قالا: أخبرنا وكيعٌ، حدثنا سعيد بن حسان المخزومي، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عُبيد الله بن أبي نَهيكٍ، عن سعد، قال: قال رسول الله ﷺ: "ليس مِنّا مَن لم يَتغَنَّ بالقرآنِ" (1). قد اتفقت روايةُ عمرو بن دينار، وابن جُرَيج، وسعيد بن حسان: عن ابن أبي مُلَيكة، عن عبيد الله بن أبي نَهيكٍ. وقد خالفَهُما الليثُ بن سعد، فقال: عن عَبد الله بن أبي مُلَيكة عن عَبْد الله (2) بن أبي نَهيكٍ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ہم میں سے نہیں جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے۔“
اس روایت پر عمرو بن دینار، ابن جریج اور سعید بن حسان کا اتفاق ہے کہ یہ عبید اللہ بن ابی نہیک سے مروی ہے، البتہ لیث بن سعد نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے اسے عبداللہ بن ابی نہیک سے روایت کیا ہے۔
اس روایت پر عمرو بن دینار، ابن جریج اور سعید بن حسان کا اتفاق ہے کہ یہ عبید اللہ بن ابی نہیک سے مروی ہے، البتہ لیث بن سعد نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے اسے عبداللہ بن ابی نہیک سے روایت کیا ہے۔
أخبرَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْلُ، حدثنا عُبيد بن شَريك، حدثنا يحيى بن بُكير. وأخبرنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا قيس بن أُنَيف، حدثنا قتيبة بن سعيد؛ قالا: حدثنا الليث بن سعد، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عَبْد الله بن أبي نَهيكٍ، عن سعد بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ: "ليس مِنّا مَن لم يَتغَنَّ بالقرآنِ" (1). ليس يَدفَعُ روايةَ الليث تلك الرواياتُ عن عُبيد الله بن أبي نَهيكٍ، فإنهما أخَوانِ تابعيّان (2)، والدليل على صحة الروايتين روايةُ عمرو بن الحارث، وهو أحد الحفّاظ الأثبات عن ابن أبي مُلَيكة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ہم میں سے نہیں جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے۔“
لیث کی یہ روایت عبید اللہ بن ابی نہیک سے مروی دیگر روایات کی تردید نہیں کرتی کیونکہ وہ دونوں بھائی اور تابعی ہیں، اور ان دونوں روایات کی صحت کی دلیل عمرو بن حارث کی روایت ہے جو کہ ابن ابی ملیکہ سے روایت کرنے والے ثقہ حفاظ میں سے ہیں۔
لیث کی یہ روایت عبید اللہ بن ابی نہیک سے مروی دیگر روایات کی تردید نہیں کرتی کیونکہ وہ دونوں بھائی اور تابعی ہیں، اور ان دونوں روایات کی صحت کی دلیل عمرو بن حارث کی روایت ہے جو کہ ابن ابی ملیکہ سے روایت کرنے والے ثقہ حفاظ میں سے ہیں۔
حدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا سليمان بن داود المَهْرِي وأحمد بن عمرو بن السَّرْح، قالا: حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرنا عمرو بن الحارث، عن ابن أبي مُلَيكة: أنه حدثه عن ناسٍ دَخَلُوا على سعد بن أبي وقّاص، فسألوه عن القرآن، فقال سعد: أمَا إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "ليس مِنّا من لم يَتغَنَّ بالقرآن" (1). فهذه الرواية تدلُّ على أنَّ ابن أبي مُلَيكة لم يسمعه من راوٍ واحدٍ، إنما سمعه مِن رُواةٍ لسعدٍ. وقد تَرَك عبيدُ الله بن الأخنس وعِسْلُ بن سفيان الطريقَ عن ابن أبي مُلَيكة، وأَتيا به فيه بإسنادَين شاذّين. أما حديث عُبيد الله بن الأخنس:
حافظ طلحہ بابر
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ان لوگوں سے بیان کیا جو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے قرآن کے متعلق سوال کیا، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”وہ ہم میں سے نہیں جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے۔“
یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے اسے صرف ایک راوی سے نہیں سنا بلکہ سیدنا سعد کے کئی شاگردوں سے سنا ہے۔
یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے اسے صرف ایک راوی سے نہیں سنا بلکہ سیدنا سعد کے کئی شاگردوں سے سنا ہے۔
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا عبد الرحمن بن غَزْوان أبو نوح، حدثنا عُبيد الله بن الأخنس، حدثنا عَبد الله بن عُبيد الله (1) بن أبي مُلَيكة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "ليس مِنّا من لم يَتغَنَّ بالقرآن" (2). وأمّا حديث عِسْل بن سفيان:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ہم میں سے نہیں جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے۔“
فأخبرَناه أحمد بن سهل الفقيه، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب، حدثنا أبو غسان مالك بن سعد (3)، حدثنا رَوح بن عُبادة، حدثنا شعبة، عن عِسْل بن سفيان، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عائشة، عن النبي ﷺ، أنه قال: "ليس مِنّا مَن لم يَتغنَّ بالقرآن" (4). ورواه الحارثُ بن مُرَّة الثقفي البصري، عن عِسْل بن سفيان، عن ابن أبي مُلَيكة، عن ابن عباس:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”وہ ہم میں سے نہیں جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے۔“
حدَّثَناه أبو عليّ الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا عَبْدان الأَهْوازي، حدثنا نَصْر بن علي الجَهْضَمِي، حدثنا الحارث بن مُرّة، حدثنا عِسْل بن سفيان، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عبد الله بن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "ليس مِنّا مَن لم يَتغنَّ بالقرآن" (1). ليس مُستبدَعٌ من عِسْلِ بن سُفيان الوهمَ، والحديثُ راجعٌ إلى حديثِ سعد بن أبي وقاص، والله أعلم. فأما الحديث الذي اتفق الشيخان على إخراجه في "الصحيحين" فغَيرُ هذا المتن: اتفقا على إخراج حديث الزُّهْري، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "ما أذِنَ اللهُ لشيءٍ ما أذِنَ لنبيٍّ يَتغنّى بالقرآنِ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ہم میں سے نہیں جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے۔“
عسل بن سفیان سے وہم ہونا کوئی بعید بات نہیں، اور یہ حدیث دراصل سیدنا سعد بن ابی وقاص کی حدیث کی طرف ہی لوٹتی ہے، واللہ اعلم۔ رہا وہ متن جس کی تخریج پر شیخین کا اتفاق ہے تو وہ اس متن کے علاوہ ہے؛ انہوں نے زہری کی روایت سے اتفاق کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اس طرح توجہ سے نہیں سنتا جس طرح وہ کسی نبی کو خوش الحانی کے ساتھ قرآن پڑھتے ہوئے سنتا ہے۔“
عسل بن سفیان سے وہم ہونا کوئی بعید بات نہیں، اور یہ حدیث دراصل سیدنا سعد بن ابی وقاص کی حدیث کی طرف ہی لوٹتی ہے، واللہ اعلم۔ رہا وہ متن جس کی تخریج پر شیخین کا اتفاق ہے تو وہ اس متن کے علاوہ ہے؛ انہوں نے زہری کی روایت سے اتفاق کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اس طرح توجہ سے نہیں سنتا جس طرح وہ کسی نبی کو خوش الحانی کے ساتھ قرآن پڑھتے ہوئے سنتا ہے۔“