کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جو قرآن پڑھے، سیکھے اور اس پر عمل کرے اسے قیامت کے دن نور کا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج جیسی ہوگی۔
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكّي بن إبراهيم، حدثنا بَشير بن مُهاجِر، عن عبد الله بن بُريدة الأسلمي، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "من قرأ القرآنَ وتَعلَّمَه وعَمِل به، أُلبس يومَ القيامة تاجًا من نور، ضَوْؤُه مثل ضَوْء الشمس، ويُكسَى والدَيه حُلَّتان (1)، لا يقومُ لهما الدنيا، فيقولان: بما كُسينا هذا؟ فيقال: بأخْذِ ولدِكُما القرآنَ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قرآن پڑھا، اسے سیکھا اور اس پر عمل کیا، اسے قیامت کے دن نور کا ایک تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج کی طرح ہوگی، اور اس کے والدین کو دو ایسے لباس (حلے) پہنائے جائیں گے جن کے برابر دنیا کی کوئی چیز نہیں ہو سکتی، وہ پوچھیں گے: ہمیں یہ کس صلے میں پہنائے گئے ہیں؟ تو کہا جائے گا: تمہارے بچے کے قرآن حاصل کرنے کی وجہ سے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2113
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،في المتابعات والشواهد من أجل بشير بن مهاجر، وقد حسَّن حديثه هذا البَغَوي في "شرح السنة" (1190)، وابنُ كثير في "تفسيره" 1/ 53، وابن حجر في "المطالب" (3478).» [ترقيم الرساله 2113] [ترقيم الشركة 2095]
وأخبرنا بكر بن محمد، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مَكّي بن إبراهيم، حدثنا عُبيد الله بن أبي حُميد، عن أبي المَليح، عن مَعقِل بن يَسار قال: قال رسول الله ﷺ: "اعمَلُوا بالقرآن، أحِلُّوا حَلالَه وحَرِّموا حرامَه واقتَدُوا به، ولا تَكفُروا بشيءٍ منه، وما تَشابَه عليكم منه فرُدُّوه إلى الله وإلى أُولي الأمر مِن بعدي كيما يُخبِروكم، وآمِنُوا بالتوراة والإنجيل والزَّبور وما أُوتي النبيون من ربهم، وليسَعْكُمُ القرآنُ وما فيه من البيان، فإنه شافعٌ مُشفَّعٌ، وماحِلٌ مُصَدَّقٌ، ألا ولكل آيةٍ نورٌ يومَ القيامة (1)، وإني أُعطيتُ سورة البقرة من الذكر الأول، وأُعطيت طه وطَوَاسينَ والحواميمَ من ألواح موسى، وأُعطيتُ فاتحةَ الكتاب من تحت العَرْش" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن پر عمل کرو، اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جانو، اس کی پیروی کرو اور اس کی کسی چیز کا انکار نہ کرو، اور اس میں سے جو باتیں تم پر مشتبہ ہو جائیں انہیں اللہ اور میرے بعد اولو الامر کی طرف لوٹا دو تاکہ وہ تمہیں ان کی حقیقت سے باخبر کریں، اور تورات، انجیل، زبور اور ان تمام کتابوں پر ایمان لاؤ جو انبیاء کو ان کے رب کی طرف سے دی گئیں، اور تمہارے لیے قرآن اور اس کا بیان کافی ہونا چاہیے، کیونکہ وہ ایسی شفاعت کرنے والا ہے جس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور ایسا سچا جھگڑا کرنے والا (وکیل) ہے جس کی تصدیق کی جائے گی، خبردار! ہر آیت کے لیے قیامت کے دن ایک نور ہوگا، اور مجھے ذکرِ اول (لوحِ محفوظ) سے سورہ بقرہ عطا کی گئی، اور طہ، طواسین اور حوامیم موسیٰ علیہ السلام کی الواح سے دی گئیں، اور مجھے فاتحہ الکتاب عرش کے نیچے سے عطا کی گئی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2114
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا من أجل عُبيد الله بن أبي حميد
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا من أجل عُبيد الله بن أبي حميد، فهو متروك الحديث كما أشار إليه الذهبي.» [ترقيم الرساله 2114] [ترقيم الشركة 2096]