أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد القَنْطَري ببغداد، حدثنا أبو قِلَابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم الضَّحّاك بن مَخْلَد الشَّيباني، حدثنا أبو المَلِيح الفارسي، حدثنا أبو صالح، قال: قال أبو هريرة: قال رسولُ الله ﷺ: "مَن لا يَسألِ اللهَ يَغضَبْ عليه" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا، اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے۔“
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا خارجة، عن أبي المَليح حُميد المَديني، حدثني أبو صالح الخُوْزي، عن أبي هريرةَ قال: قال رسولُ الله ﷺ: "مَن لا يَدْعو الله يَغضَبُ عليه" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ سے دعا نہیں کرتا، اللہ اس پر غضبناک ہوتا ہے۔“
وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن محمد بن حيَّان (2) الأنصاري، حدثنا محمد بن الصَّبّاح الجَرجَرائي، حدثنا مروان بن معاوية الفَزَاري، حدثنا أبو المَلِيح المَدَني (3)، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ: إنَّ الله ليَغْضبُ على مَن لم (4) يَفعلْهُ، ولا يفعلُ ذلك أحدٌ غيرُه"؛ يعني في الدعاء (5).
هذا حديث صحيح الإسناد؛ فإنَّ أبا صالح الخُوزيَّ وأبا المَلِيح الفارسيَّ لم يُذكَرا بالجَرح، إنما هما في عِداد المجهولين لقلَّة الحديث.
هذا حديث صحيح الإسناد؛ فإنَّ أبا صالح الخُوزيَّ وأبا المَلِيح الفارسيَّ لم يُذكَرا بالجَرح، إنما هما في عِداد المجهولين لقلَّة الحديث.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ اس پر غصہ فرماتا ہے جو اس سے سوال نہیں کرتا، اور اللہ کے سوا کوئی ایسا نہیں (جو نہ مانگنے پر ناراض ہو)۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، کیونکہ ابوصالح الخوزی اور ابو الملیح فارسی پر کوئی جرح نہیں ہے، وہ صرف اپنی روایات کی کمی کی وجہ سے مجہولین کے زمرے میں گنے جاتے ہیں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، کیونکہ ابوصالح الخوزی اور ابو الملیح فارسی پر کوئی جرح نہیں ہے، وہ صرف اپنی روایات کی کمی کی وجہ سے مجہولین کے زمرے میں گنے جاتے ہیں۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني سليمان بن بلال، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ: "ما من قومٍ جلسوا مجلسًا وتفرَّقوا منه لم يَذكُروا الله فيه، إلَّا كأنّما تفرَّقوا عن جِيفَةِ حمار، وكان عليهم حسرةً يومَ القيامة" (6). تابعه عبد العزيز بن أبي حازم عن سهيل:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھے اور وہاں سے اللہ کا ذکر کیے بغیر اٹھ کھڑے ہوئے، تو وہ ایسے ہی ہے جیسے وہ کسی مردہ گدھے کی لاش پر سے اٹھ کر جدا ہوئے ہوں، اور یہ مجلس قیامت کے دن ان کے لیے باعثِ حسرت ہوگی۔“
أخبرَناه إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ نحوَه (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، والذي عندي أنه تَرَكَه لأنَّ أبا إسحاق الفَزَاريَّ أوقَفَه عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، والذي عندي أنه تَرَكَه لأنَّ أبا إسحاق الفَزَاريَّ أوقَفَه عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے سابقہ روایت کی مانند مروی ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، میرا خیال ہے کہ امام مسلم نے اسے اس لیے چھوڑ دیا کیونکہ ابواسحاق فزاری نے اسے اعمش سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، میرا خیال ہے کہ امام مسلم نے اسے اس لیے چھوڑ دیا کیونکہ ابواسحاق فزاری نے اسے اعمش سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
حدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبَري وأبو بكر محمد بن جعفر المزكِّي، قالا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا أبو صالح محبوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاريُّ، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرةَ قال: ما جلس قومٌ مجلسًا، ثم تفرَّقوا قبل أن يَذكُروا الله ويصلُّوا على نبيه ﷺ، إلَّا كان عليهم حسرةً يومَ القيامة (2). هذا لا يعلِّلُ حديثَ سهيل، فإنَّ الزيادة من سليمان بن بلال وابن أبي حازم مقبولة، وقد أسنَدَه سعيدٌ المقبُريُّ عن أبي هريرة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھے اور پھر اللہ کا ذکر کیے بغیر اور اپنے نبی ﷺ پر درود بھیجے بغیر وہاں سے جدا ہو گئے، وہ مجلس قیامت کے دن ان کے لیے باعثِ حسرت ہوگی۔“
یہ روایت سہیل کی حدیث میں کوئی علت یا کمزوری پیدا نہیں کرتی، کیونکہ سلیمان بن بلال اور ابن ابی حازم کی جانب سے (درود کے متعلق) کیا گیا اضافہ مقبول ہے، اور اسے سعید المقبری نے بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مسنداً روایت کیا ہے۔
یہ روایت سہیل کی حدیث میں کوئی علت یا کمزوری پیدا نہیں کرتی، کیونکہ سلیمان بن بلال اور ابن ابی حازم کی جانب سے (درود کے متعلق) کیا گیا اضافہ مقبول ہے، اور اسے سعید المقبری نے بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مسنداً روایت کیا ہے۔
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنّى، حدثنا مسدَّد، حدثنا بشر بن المفضَّل، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن سعيدٍ المقبُريِّ، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ: "ما اجتمع قومٌ، ثم تفرَّقوا لم يَذكُروا الله، إلّا كأنّما تفرَّقوا عن جِيفَةِ حمار" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگ بھی اکٹھے ہوئے، پھر وہ اللہ کا ذکر کیے بغیر وہاں سے جدا ہو گئے، تو وہ گویا کسی مردار گدھے کی لاش کے پاس سے (منتشر ہو کر) اٹھے ہوں۔“