المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
مَنْ لَا يَدْعُو اللَّهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ باب: جو اللہ سے دعا نہیں کرتا اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1826
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد القَنْطَري ببغداد، حدثنا أبو قِلَابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم الضَّحّاك بن مَخْلَد الشَّيباني، حدثنا أبو المَلِيح الفارسي، حدثنا أبو صالح، قال: قال أبو هريرة: قال رسولُ الله ﷺ: "مَن لا يَسألِ اللهَ يَغضَبْ عليه" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا، اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف، أبو صالح - وهو الخُوزي - لم يرو عنه غير أبي المَليح الفارسي - ويقال: المدني لأنه سكن المدينة، واسمه: صبيح، وقيل: حميد ثم إنَّ أبا صالح هذا ليس له غير هذا الحديث، وقد تفرَّد به، وهو مختلف فيه، فقد ضعفه ابن معين، وقال أبو زرعة: لا بأس به، وقال الحافظ في "التقريب": ليِّن الحديث، أي: تقبل روايته حيث يتابع، ولم يتابع.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ ابوصالح الخوزی سے صرف ابوملیح الفارسی نے روایت کی ہے۔
علّت / فنی نکتہ: ابن معین نے ابوصالح کو ضعیف کہا، جبکہ ابو زرعہ نے 'لا بأس بہ' کہا۔ حافظ ابن حجر کے نزدیک یہ "لَیِّن الحدیث" ہیں جن کی روایت صرف متابعت میں قبول ہوتی ہے، اور یہاں متابعت نہیں۔
وأخرجه الترمذي (3373 م) عن إسحاق بن منصور، عن أبي عاصم، بهذا الإسناد. وسُمّي أبو المليح عنده حميدًا، قال الترمذي: حميد هذا يقال له: الفارسي، سكن المدينة.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے اسحاق بن منصور عن ابی عاصم کی سند سے روایت کیا ہے اور ابوملیح کا نام 'حمید' بتایا ہے۔
وأخرجه أحمد 15/ (9719) و 16/ (10178)، وابن ماجه (3827) من طريق وكيع، والترمذي (3373) من طريق حاتم بن إسماعيل، كلاهما عن أبي المليح، به. قال الترمذي: ولا نعرفه إلّا من هذا الوجه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (9719)، ابن ماجہ (3827) اور ترمذی نے وکیع اور حاتم بن اسماعیل کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ ترمذی کے بقول یہ صرف اسی ایک طریق سے معلوم ہے۔
وانظر ما بعده.
ہدایت: اگلی روایت ملاحظہ فرمائیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ ابوصالح الخوزی سے صرف ابوملیح الفارسی نے روایت کی ہے۔
علّت / فنی نکتہ: ابن معین نے ابوصالح کو ضعیف کہا، جبکہ ابو زرعہ نے 'لا بأس بہ' کہا۔ حافظ ابن حجر کے نزدیک یہ "لَیِّن الحدیث" ہیں جن کی روایت صرف متابعت میں قبول ہوتی ہے، اور یہاں متابعت نہیں۔
وأخرجه الترمذي (3373 م) عن إسحاق بن منصور، عن أبي عاصم، بهذا الإسناد. وسُمّي أبو المليح عنده حميدًا، قال الترمذي: حميد هذا يقال له: الفارسي، سكن المدينة.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے اسحاق بن منصور عن ابی عاصم کی سند سے روایت کیا ہے اور ابوملیح کا نام 'حمید' بتایا ہے۔
وأخرجه أحمد 15/ (9719) و 16/ (10178)، وابن ماجه (3827) من طريق وكيع، والترمذي (3373) من طريق حاتم بن إسماعيل، كلاهما عن أبي المليح، به. قال الترمذي: ولا نعرفه إلّا من هذا الوجه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (9719)، ابن ماجہ (3827) اور ترمذی نے وکیع اور حاتم بن اسماعیل کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ ترمذی کے بقول یہ صرف اسی ایک طریق سے معلوم ہے۔
وانظر ما بعده.
ہدایت: اگلی روایت ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1826 سے ماخوذ ہے۔