المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
مَنْ لَا يَدْعُو اللَّهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ باب: جو اللہ سے دعا نہیں کرتا اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1832
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنّى، حدثنا مسدَّد، حدثنا بشر بن المفضَّل، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن سعيدٍ المقبُريِّ، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ: "ما اجتمع قومٌ، ثم تفرَّقوا لم يَذكُروا الله، إلّا كأنّما تفرَّقوا عن جِيفَةِ حمار" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگ بھی اکٹھے ہوئے، پھر وہ اللہ کا ذکر کیے بغیر وہاں سے جدا ہو گئے، تو وہ گویا کسی مردار گدھے کی لاش کے پاس سے (منتشر ہو کر) اٹھے ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن إسحاق - وهو المدني - وقد توبع. أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العنبري.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور عبدالرحمن بن اسحاق کی وجہ سے سند "حسن" ہے، نیز ان کی متابعت موجود ہے۔
فنی نکتہ: ابو المثنیٰ سے مراد معاذ بن مثنیٰ العنبری ہیں۔
وأخرجه النسائي (10163) عن إسماعيل بن مسعود، عن بشر بن المفضل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (10163) نے اسماعیل بن مسعود عن بشر بن المفضل کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أبو داود (4856) و (5059)، والنسائي (10164) و (10585) من طريق محمد بن عجلان، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ أنه قال: "من قعد مقعدًا لم يذكر الله فيه كانت عليه من الله تِرَة، ومن اضطجع مضجعًا لا يذكر الله فيه إلّا كانت عليه من الله تِرَة". واللفظ لأبي داود.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (4856) اور نسائی نے محمد بن عجلان کے طریق سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو ایسی جگہ بیٹھا جہاں اللہ کا ذکر نہ کیا تو وہ اللہ کی طرف سے اس پر 'تِرَہ' (نقصان/حسرت) ہوگی"۔
وسيأتي بنحو ذلك برقم (2040) من طريق سعيد المقبري عن أبي إسحاق مولى عبد الله بن الحارث عن أبي هريرة، ويأتي تخريجه والكلام عليه هناك إن شاء الله.
تکرار: اسی طرح کی روایت آگے نمبر (2040) پر سعید المقبری کے طریق سے آئے گی اور وہیں تفصیل بیان ہوگی۔
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور عبدالرحمن بن اسحاق کی وجہ سے سند "حسن" ہے، نیز ان کی متابعت موجود ہے۔
فنی نکتہ: ابو المثنیٰ سے مراد معاذ بن مثنیٰ العنبری ہیں۔
وأخرجه النسائي (10163) عن إسماعيل بن مسعود، عن بشر بن المفضل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (10163) نے اسماعیل بن مسعود عن بشر بن المفضل کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أبو داود (4856) و (5059)، والنسائي (10164) و (10585) من طريق محمد بن عجلان، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ أنه قال: "من قعد مقعدًا لم يذكر الله فيه كانت عليه من الله تِرَة، ومن اضطجع مضجعًا لا يذكر الله فيه إلّا كانت عليه من الله تِرَة". واللفظ لأبي داود.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (4856) اور نسائی نے محمد بن عجلان کے طریق سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو ایسی جگہ بیٹھا جہاں اللہ کا ذکر نہ کیا تو وہ اللہ کی طرف سے اس پر 'تِرَہ' (نقصان/حسرت) ہوگی"۔
وسيأتي بنحو ذلك برقم (2040) من طريق سعيد المقبري عن أبي إسحاق مولى عبد الله بن الحارث عن أبي هريرة، ويأتي تخريجه والكلام عليه هناك إن شاء الله.
تکرار: اسی طرح کی روایت آگے نمبر (2040) پر سعید المقبری کے طریق سے آئے گی اور وہیں تفصیل بیان ہوگی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1832 سے ماخوذ ہے۔