حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب إملاءً، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني عبد العزيز بن عبد الله بن أبي سَلَمة، أنَّ عبد الله بن الفضل حدَّثه عن عبد الرحمن الأعرج، عن أبي هريرةَ قال: كان من تَلبيةِ رسول الله ﷺ: "لبيك إلهَ الحَقِّ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تلبیہ کے کلمات میں یہ بھی شامل تھا: «لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ» ”میں حاضر ہوں اے معبودِ برحق۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا عُبيد الله بن عمر القَوَارِيري، حدثنا عبد الأعلى، حدثنا محمد بن إسحاق، عن نافع عن ابن عمر: أنَّ النبيَّ ﷺ لَبَّدَ رأسَه بالغِسْل (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه، إنما اتفقا على حديث سالم عن ابن عمر: أَنَّ النبي ﷺ كان يُهِلُّ مُلبِّدًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه، إنما اتفقا على حديث سالم عن ابن عمر: أَنَّ النبي ﷺ كان يُهِلُّ مُلبِّدًا (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غسل کے وقت (احرام سے پہلے) اپنے سر کے بالوں کو (گوند وغیرہ سے) جما لیا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے سالم کی ابن عمر سے یہ روایت لی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بالوں کو جمائے ہوئے تلبیہ پکارا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے سالم کی ابن عمر سے یہ روایت لی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بالوں کو جمائے ہوئے تلبیہ پکارا تھا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن أبي بكر، عن عبد الملك بن أبي بكر بن الحارث بن هشام، عن خَلّاد بن السائب، عن أبيه، عن النبيّ ﷺ قال: "أتاني جبريلُ فقال: مُرْ أصحابَك أن يَرفَعوا أصواتَهم بالإهلال والتَّلبية" (2). وقد قيل: عن خَلّاد بن السائب عن زيد بن خالد الجُهَني:
حافظ طلحہ بابر
خلاد بن سائب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل آئے اور کہا: اپنے صحابہ کو حکم دیں کہ وہ تلبیہ پکارنے میں اپنی آوازیں بلند کریں۔“
أخبرَناه عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الله بن أبي لَبيد، عن المُطَّلب بن عبد الله بن حَنْطَب، عن خَلَّاد بن السائب، عن زيد بن خالد الجُهَنيِّ قال: قال رسولُ الله ﷺ: "جاءني جبريلُ فقال: يا محمد، مُرْ أصحابَك فليرفَعوا صِياحَهم بالتَّلبية، فإنها شِعارُ الحج" (1). وقيل: عن المطَّلب بن عبد الله بن حَنْطب عن أبي هريرة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا: اے محمد! اپنے صحابہ کو حکم دیں کہ وہ تلبیہ پکارتے ہوئے اپنی آوازیں بلند کریں، کیونکہ یہ حج کا شعار ہے۔“
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أنبأ ابن وَهْب، أخبرني أسامة بن زيد، أنَّ محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان وعبدَ الله بنَ أبي لَبِيد، أخبراه عن المطَّلب بن عبد الله بن حَنْطَب قال: سمعت أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ: " أمرني جبريلُ برفع الصَّوت بالإهلال، فإنَّه من شعائر الحج" (2). هذه الأسانيد كلُّها صحيحة، وليس يُعلِّل واحدٌ منها الآخر، فإنَّ السلف ﵃ كان يجتمع عندهم الأسانيد لمتنٍ واحدٍ كما يجتمع عندنا الآن، ولم يخرج الشيخان هذا الحديث.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام نے تلبیہ پکارتے ہوئے آواز بلند کرنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ یہ حج کے شعائر میں سے ہے۔“
یہ تمام اسناد صحیح ہیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی دوسری کے لیے باعثِ علت نہیں ہے، کیونکہ سلف صالحین کے پاس ایک ہی متن کے لیے کئی اسناد جمع ہو جاتی تھیں جیسا کہ آج ہمارے پاس جمع ہیں، اور شیخین نے اس حدیث کو روایت نہیں کیا۔
یہ تمام اسناد صحیح ہیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی دوسری کے لیے باعثِ علت نہیں ہے، کیونکہ سلف صالحین کے پاس ایک ہی متن کے لیے کئی اسناد جمع ہو جاتی تھیں جیسا کہ آج ہمارے پاس جمع ہیں، اور شیخین نے اس حدیث کو روایت نہیں کیا۔