حدیث نمبر: 1673
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعراني، حدثنا جَدِّي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثني محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك، أخبرنا الضَّحّاك بن عثمان، عن محمد بن بن المُنكَدِر، عن عبد الرحمن بن يَرْبُوع، عن أبي بكرٍ الصِّدِّيق: أنَّ رسولَ الله ﷺ سُئِل: أيُّ العملِ أفضل؟ قال: "العَجُّ والثَّجُّ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قال أبو عُبيد: العَجُّ: رفع الصوت بالتلبية، والثّجُ: نحر البُدْن ليثُجَّ الدم من المَنْحَر.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”«العج والثج» (یعنی بلند آواز سے تلبیہ پکارنا اور قربانی کا خون بہانا)۔“
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ ابوعبیدہ کہتے ہیں: ”«العج» سے مراد تلبیہ پکارتے وقت آواز بلند کرنا ہے، اور «الثج» سے مراد قربانی کے جانوروں کو نحر کرنا ہے تاکہ ان کے حلق سے خون بہہ سکے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1673
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإنَّ محمد بن المنكدر لم يسمع من عبد الرحمن بن يربوع، كما قال الترمذي. الفضل جد إسماعيل: هو ابن محمد بن المسيب الشعراني، وإبراهيم ابن حمزة: هو ابن محمد بن حمزة بن مصعب الزبيري.» [ترقيم الرساله 1673] [ترقيم الشركة 1661]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإنَّ محمد بن المنكدر لم يسمع من عبد الرحمن بن يربوع، كما قال الترمذي. الفضل جد إسماعيل: هو ابن محمد بن المسيب الشعراني، وإبراهيم ابن حمزة: هو ابن محمد بن حمزة بن مصعب الزبيري.
درجۂ حدیث: دیگر شواہد کی بنا پر حسن لغیرہ ہے، مگر یہ سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔
علّت / فنی نکتہ: محمد بن المنکدر نے عبدالرحمن بن یربوع سے نہیں سنا۔
وأخرجه ابن ماجه (2924)، والترمذي (827) من طرق عن ابن أبي فديك بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2924) اور ترمذی (827) نے ابن ابی فدیک کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: غريب لا نعرفه إلّا من حديث ابن أبي فديك عن الضَّحاك بن عثمان، ومحمد بن المنكدر لم يسمع من عبد الرحمن بن يربوع.
سندی اختلاف: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ روایت صرف ابن ابی فدیک کے واسطے سے پہچانی جاتی ہے اور یہ منقطع ہے۔
وله شاهد بإسناد حسن من حديث عبد الله بن مسعود، أخرجه أبو يوسف القاضي في "الآثار" (459)، وأبو يعلى (5086).
متابعات و شواہد: اس کا ایک حسن شاہد حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ہے جو ابویعلیٰ (5086) میں موجود ہے۔
وآخر من حديث ابن عمر، أخرجه ابن ماجه (2896)، والترمذي (2998)، وفيه إبراهيم بن يزيد الخُوزي، متروك، وبعضهم اتهمه.
متابعات و شواہد: ابن عمر ؓ سے بھی ایک شاہد مروی ہے مگر اس میں ابراہیم بن یزید "متروک" راوی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1673 سے ماخوذ ہے۔