کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: حج کے دوران تجارت اور کرایہ داری (اجرت پر کام) کرنے کا بیان۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المُثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا العلاء بن المسيَّب، حدثنا أبو أُمامة التَّيمي، قال: كنتُ رجلًا أُكْرِي في هذا الوجه، وكان أناسٌ يقولون لي: إنه ليس لك حجٌّ، فلقيتُ ابن عمر، فقلت: يا أبا عبد الرحمن، إنِّي رجلٌ أُكْرِي في هذا الوجه، وإنَّ أُناسًا يقولون لي: إنَّه ليس لك حجٌّ، فقال: ألست تُحْرمُ وتُلبِّي وتَطوفُ وتُفيضُ من عرفاتٍ وتَرمي الجِمار؟ قال: قلتُ: بلى، قال: فإنَّ لك حجًّا؛ جاء رجلٌ إلى رسول الله ﷺ فسأله عن مثلِ ما سألتَني عنه، فسكتَ عنه رسول الله ﷺ فلم يُجِبْه، حتى نزلت هذه الآية: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [البقرة: 198]، فأرسلَ إليه رسولُ الله ﷺ وقرأَ هذه الآيةَ عليه، وقال: "لك حجٌّ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
ابوامامہ تیمی بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ کے راستے میں سواریاں کرائے پر دیا کرتا تھا، تو بعض لوگوں نے مجھ سے کہا کہ (تجارت کرنے کی وجہ سے) تمہارا حج نہیں ہوتا، پھر میری ملاقات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو میں نے عرض کیا: اے ابوعبدالرحمن! میں اس راستے میں سواریاں کرائے پر دیتا ہوں اور لوگ کہتے ہیں کہ میرا حج قبول نہیں ہوتا، انہوں نے پوچھا: ”کیا تم احرام نہیں باندھتے، لبیک نہیں کہتے، طواف نہیں کرتے، عرفات سے واپسی نہیں کرتے اور جمرات کو کنکریاں نہیں مارتے؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں (میں یہ سب کرتا ہوں)۔ انہوں نے فرمایا: ”تو پھر یقیناً تمہارا حج ہو گیا؛ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے ویسا ہی سوال کیا جیسا تم نے مجھ سے کیا، آپ ﷺ خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ ”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل (تجارت کے ذریعے) تلاش کرو۔“ [سورة البقرة: 198]، تو آپ ﷺ نے اسے بلا بھیجا اور اسے یہ آیت سنا کر فرمایا: ”تمہارا حج ہو گیا ہے۔““
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا ابن أبي ذئب، عن عطاء بن أبي رباح، عن عُبيد بن عُمَير، عن ابن عباس: أنَّ الناس في أول الحج كانوا يَتَبَايعون بمِنًى وعرفةَ وسوقِ ذي المَجَاز ومواسمِ الحجِّ، فخافوا البيعَ وهم حُرُم، فأنزل الله ﵎: (لا جُناحَ عليكم (1) أن تَبتَغُوا فَضْلًا من ربكُم) في مواسمِ الحجِّ، قال (2): فحدثني عُبيد بن عُمير أنه كان يقرؤُها في المصحف (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حج کے ابتدائی زمانے میں لوگ منیٰ، عرفہ، ذوالجاز کے بازاروں اور حج کے دیگر موسموں میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے، پھر وہ احرام کی حالت میں تجارت کرنے سے ڈرنے لگے، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ یعنی حج کے موسموں میں (تجارت کرنا گناہ نہیں)، عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ وہ اپنے مصحف میں اسے اسی طرح (وضاحتی الفاظ کے ساتھ) پڑھا کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا أحمد بن إسحاق الحضرمي، حدثنا وُهَيب، حدثنا موسى بن عُقبة، حدثني نافعٌ وسالم: أن ابن عمر كان إذا مَرَّ بذِي الحُلَيفة بات بها حتى يُصبحَ، ويخبرُ أنَّ رسول الله ﷺ كان يفعلُ ذلك (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا.
حافظ طلحہ بابر
نافع اور سالم سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ سے گزرتے تو وہاں رات کو قیام فرماتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی، اور وہ یہ بتایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول بھی یہی تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس طرح اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس طرح اسے روایت نہیں کیا۔