المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
الرُّخْصَةُ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ باب: قبروں کی زیارت کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1404
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عمرو البزّاز ببغداد، حدثنا محمد بن شاذانَ الجَوهَريُّ، حدثنا زكريا بن عَدِيٍّ، حدثنا سَلَّام بن سُلَيم، عن يحيى الجابر، عن عمرو بن عامر، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ: "نَهيتُكم عن زيارة القُبور فزُورُوها، فإنها تُذكِّركم الموتَ" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيى الجابر: وهو يحيى بن عبد الله بن الحارث الجابر، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه". زكريا بن عدي: هو التيمي مولاهم، وسلّام بن سُليم: يكنى أبا الأحوص.
درجۂ حدیث: (2) یحییٰ الجابر کے ضعف کی وجہ سے سند ضعیف ہے مگر صحیح لغیرہ ہے۔ ابوالاحوص (سلام بن سلیم) اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه مطولًا أحمد 21/ (13615) عن عفان بن مسلم، عن أبي الأحوص، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے تفصیلاً احمد (13615/21) نے عفان بن مسلم عن ابی الاحوص کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مطولًا كذلك أحمد (13487) من طريق ابن إسحاق، عن يحيى الجابر، به. وقرن بعمرو بن عامر عبدَ الوارث مولى أنس بن مالك، وعبد الوارث هذا قال أبو زرعة: منكر الحديث، وقال أبو حاتم: شيخ، وذكره ابن حبان في "الثقات".
درجۂ حدیث: اسے احمد (13487) نے ابن اسحاق کے طریق سے بھی روایت کیا ہے مگر اس میں عبدالوارث مولیٰ انس "منکر الحدیث" ہے۔
وسيأتي برقم (1409) و (1410).
وانظر تمام شواهده في "المسند".
تکرار: یہ آگے نمبر (1409، 1410) پر آئے گی۔ شواہد کے لیے مسند احمد دیکھیں۔
درجۂ حدیث: (2) یحییٰ الجابر کے ضعف کی وجہ سے سند ضعیف ہے مگر صحیح لغیرہ ہے۔ ابوالاحوص (سلام بن سلیم) اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه مطولًا أحمد 21/ (13615) عن عفان بن مسلم، عن أبي الأحوص، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے تفصیلاً احمد (13615/21) نے عفان بن مسلم عن ابی الاحوص کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مطولًا كذلك أحمد (13487) من طريق ابن إسحاق، عن يحيى الجابر، به. وقرن بعمرو بن عامر عبدَ الوارث مولى أنس بن مالك، وعبد الوارث هذا قال أبو زرعة: منكر الحديث، وقال أبو حاتم: شيخ، وذكره ابن حبان في "الثقات".
درجۂ حدیث: اسے احمد (13487) نے ابن اسحاق کے طریق سے بھی روایت کیا ہے مگر اس میں عبدالوارث مولیٰ انس "منکر الحدیث" ہے۔
وسيأتي برقم (1409) و (1410).
وانظر تمام شواهده في "المسند".
تکرار: یہ آگے نمبر (1409، 1410) پر آئے گی۔ شواہد کے لیے مسند احمد دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1404 سے ماخوذ ہے۔