أخبرنا أبو سَهْل أحمد بن محمد بن عبد الله النَّحْوي، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا أبو عاصم، حدثنا الأسْوَد بن شَيْبان، حدثنا خالد بن سُمَير، حدثني بشير بن نَهِيك، حدثني بَشيرُ رسولِ الله ﷺ وكان اسمُه في الجاهلية زَحْم بن مَعبَد، فقال رسول الله ﷺ: "ما اسمُك؟ " قال: زَحْم بن مَعبَد فقال: "أنت بَشِير" فكان اسمَه - قال: بينا أنا أُماشي رسولَ الله ﷺ فقال: "يا ابنَ الخَصاصِيَة، ما أصبحتَ تَنقِمُ على الله؟ تُماشي رسولَ الله ﷺ"، فقلت: ما أَنقِمُ على الله شيئًا، كلَّ خيرٍ فَعَلَ بيَ (1) الله، فأَتى على قُبورٍ من المشركين فقال: "لقد سُبِق هؤلاءِ بخيرٍ كثير" ثلاث مرارٍ، ثم أَتى على قُبورِ المسلمين فقال: "لقد أدركَ هؤلاءِ خيرًا كثيرًا" ثلاث مراتٍ، فبينما هو يمشي إذ حانت منه نظرةٌ، فإذا هو برجلٍ يمشي بين القبور عليه نَعلانِ، فقال: "يا صاحبَ السِّبْتِيَّتينِ، وَيحَكَ أَلْقِ سِبْتِيَّتَيكَ"، فنظر فلما عَرَفَ الرجلُ رسول الله ﷺ، خَلَعَ نَعلَيه فرمى بهما (2).
حافظ طلحہ بابر
بشیر بن نہیک بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے ایک بشیر (خوشخبری دینے والے صحابی) نے بتایا جن کا نام جاہلیت میں زحم بن معبد تھا، رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: زحم بن معبد۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم بشیر ہو“، چنانچہ یہی ان کا نام پڑ گیا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پیدل چل رہا تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن خصاصیہ! تم اللہ سے کس بات کا شکوہ کرتے ہو؟ تم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پیدل چل رہے ہو۔“ میں نے عرض کیا: میں اللہ سے کسی بات کا شکوہ نہیں کرتا، اس نے میرے ساتھ ہر طرح کی بھلائی کی ہے۔ پھر آپ ﷺ مشرکین کی قبروں کے پاس آئے اور تین بار فرمایا: ”یہ لوگ بہت سی بھلائی سے پیچھے رہ گئے۔“ پھر مسلمانوں کی قبروں پر آئے اور تین بار فرمایا: ”ان لوگوں نے بہت سی بھلائی پا لی۔“ آپ ﷺ چل رہے تھے کہ اچانک آپ کی نظر ایک شخص پر پڑی جو قبروں کے درمیان جوتے پہن کر چل رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بالوں والے جوتے «السِّبْتِيَّتَيْنِ» والے! تجھ پر افسوس، اپنے یہ جوتے اتار دے۔“ اس شخص نے دیکھا اور جب رسول اللہ ﷺ کو پہچان لیا تو اپنے جوتے اتار کر پھینک دیے۔
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا وَكِيع، عن الأَسْوَد بن شَيْبان، عن خالد بن سُمَير، عن بَشِيرِ بن نَهِيك، عن بَشيرِ رسولِ الله ﷺ: أنَّ رسول الله ﷺ رأى رجلًا يَمشِي في نَعلَين بين القُبور فقال: "يا صاحب السِّبْتِيَّتينِ أَلْقِهِما" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه؛ في النوع الذي لا يَشتهِرُ الصحابيُّ إلّا بتابعيَّين (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه؛ في النوع الذي لا يَشتهِرُ الصحابيُّ إلّا بتابعيَّين (2).
حافظ طلحہ بابر
رسول اللہ ﷺ کے بشیر (صحابی) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو قبروں کے درمیان جوتے پہن کر چلتے دیکھا تو فرمایا: ”اے بالوں والے جوتے والے! ان دونوں کو اتار دو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا؛ یہ اس نوعیت کی حدیث ہے جس میں صحابی صرف دو تابعیوں کے واسطے سے مشہور ہوتے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا؛ یہ اس نوعیت کی حدیث ہے جس میں صحابی صرف دو تابعیوں کے واسطے سے مشہور ہوتے ہیں۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا نافع بن يزيد، أخبرني رَبيعةُ بن سَيف، حدثني أبو عبد الرحمن الحُبُليّ، عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: قَبَرْنا مع رسول الله ﷺ رجلًا، فلما رَجَعنا وحاذَينا بابَه إذا هو بامرأةٍ لا نَظنُّه عَرَفَها، فقال: "يا فاطمةُ، من أين جِئْتِ؟ " قالت: جئتُ من أهل الميِّت، رَحَّمتُ إليهم ميِّتَهم وعزَّيتُهم، قال: "فلعلَّكِ بَلَغْتِ معهم الكُدَى؟ " قالت: مَعاذَ الله أن أبلُغَ معهم الكُدَى، وقد سمعتُك تَذكرُ فيه ما تَذكُر، قال: "لو بَلَغْتِ معهم الكُدَى ما رأيتِ الجنةَ حتى يَرَى جَدُّ أبيكِ". والكُدَى: المقابر (3). رواه حَيْوَةُ بن شُرَيح الحَضْرمي عن ربيعةَ بن سيف:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک شخص کو دفنایا، جب ہم واپس مڑے اور آپ ﷺ کے گھر کے دروازے کے برابر پہنچے تو وہاں ایک عورت تھی، ہمارا خیال نہیں کہ آپ ﷺ نے اسے پہچان لیا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے فاطمہ! تم کہاں سے آئی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: میں میت کے گھر والوں کے پاس سے آئی ہوں، میں نے ان کے میت پر رحم کھایا اور ان سے تعزیت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم ان کے ساتھ «الکُدٰی» (قبرستان) تک چلی گئی تھیں؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی پناہ کہ میں ان کے ساتھ قبرستان تک جاتی جبکہ میں نے آپ کو اس بارے میں وہ سخت بات کہتے ہوئے سنا ہے جو آپ نے فرمائی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم ان کے ساتھ قبرستان تک چلی جاتیں تو تم جنت نہ دیکھتیں یہاں تک کہ تمہارے باپ کا دادا اسے دیکھ لیتا۔“ اور «الكُدي» سے مراد قبرستان ہے۔
اسے حیوہ بن شریح نے ربیعہ بن سیف سے روایت کیا ہے:
اسے حیوہ بن شریح نے ربیعہ بن سیف سے روایت کیا ہے:
أخبرَناه بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيْرفي، حدثنا عبد الصمد بن الفَضْل البَلْخي، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا حَيْوَةُ، أخبرني رَبيعةُ بن سَيفٍ المَعافِري، عن أبي عبد الرحمن الحُبُليّ، عن عبد الله بن عمرو: أنَّ رسول الله ﷺ أبصَرَ امرأةً منصرِفةً من جنازةٍ، فسألها: "من أينَ جِئتِ؟ " فقالت: من تَعزيةِ أهل هذا الميِّت، فقال رسولُ الله ﷺ: "واللهِ لو بَلَغتِ معهم الكُدَى ما رأيتِ الجنةَ حتى يراها جَدُّ أبيكِ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کو دیکھا جو جنازے سے واپس آ رہی تھی، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”تم کہاں سے آئی ہو؟“ اس نے کہا: اس میت کے گھر والوں سے تعزیت کر کے آ رہی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر تم ان کے ساتھ قبرستان تک چلی جاتیں تو تم جنت نہ دیکھتیں یہاں تک کہ تمہارے باپ کا دادا اسے دیکھ لیتا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو بكر أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو الوليد ومسلم بن إبراهيم، قالا: حدثنا شُعبة. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد (2) بن بالَوَيه، حدثنا أبو المُثنَّى العَنْبري، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا يحيى بن سعيد ومحمد بن جعفر، قالا: حدثنا شعبة، عن محمد بن جُحَادة، عن أبي صالح، عن ابن عباس قال: لَعَنَ رسولُ الله ﷺ زائراتِ القُبور والمتَّخِذِين عليها المساجدَ والسُّرُج (1). قال الحاكم: أبو صالح هذا ليس بالسَّمَّان المحتجِّ به، إنما هو باذانُ، ولم يَحتجَّ به الشيخان، لكنه حديثٌ متداوَلٌ فيما بين الأئمة، ووجدتُ له متابعًا من حديث سفيان الثوري في متن الحديث فخرَّجته:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اور ان (قبروں) پر مسجدیں بنانے اور چراغ جلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: یہ ابوصالح وہ ”سمان“ نہیں ہیں جن سے احتجاج کیا جاتا ہے بلکہ یہ باذان ہیں جن سے شیخین نے احتجاج نہیں کیا، لیکن یہ حدیث ائمہ کے درمیان مقبول و متداول ہے، اور مجھے متن میں سفیان ثوری کی حدیث سے اس کا متابع ملا ہے تو میں نے اسے درج کر دیا۔
امام حاکم فرماتے ہیں: یہ ابوصالح وہ ”سمان“ نہیں ہیں جن سے احتجاج کیا جاتا ہے بلکہ یہ باذان ہیں جن سے شیخین نے احتجاج نہیں کیا، لیکن یہ حدیث ائمہ کے درمیان مقبول و متداول ہے، اور مجھے متن میں سفیان ثوری کی حدیث سے اس کا متابع ملا ہے تو میں نے اسے درج کر دیا۔