حدیث نمبر: 1401
حدَّثَناه أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه إملاءً، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو حذيفة، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن عبد الرحمن بن بَهْمان، عن عبد الرحمن بن حسَّان بن ثابت، عن أبيه قال: لَعَنَ رسولُ الله ﷺ زوَّاراتِ القُبور (2). وهذه الأحاديث المرويَّة في النهي عن زيارة القبور منسوخة، والناسخُ لها حديثُ علقمة بن مَرثَد، عن سليمان بن بُرَيدة، عن أبيه، عن النبي ﷺ: "قد كنتُ قد نهيتُكم عن زيارة القُبور، ألا فزُورُوها، فقد أَذِنَ الله تعالى لنبيِّهِ ﷺ في زيارة قبرِ أُمِّه". وهذا الحديث مخرَّج في الكتابين الصحيحين للشيخين ﵄ (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قبروں کی زیارت کی ممانعت کے بارے میں مروی یہ احادیث منسوخ ہیں، اور ان کو منسوخ کرنے والی حدیث علقمہ بن مرثد کی ہے جو انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، خبردار! اب ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت عطا فرما دی ہے۔“ اور یہ حدیث شیخین کی دونوں صحیح کتب میں موجود ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1401
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبد الرحمن بن بهمان. أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي.» [ترقيم الرساله 1401] [ترقيم الشركة 1389]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبد الرحمن بن بهمان. أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي.
درجۂ حدیث: (2) عبدالرحمن بن بہمان کے غیر معروف ہونے کی وجہ سے سند ضعیف ہے مگر شواہد کی بنیاد پر حسن لغیرہ ہے۔ ابوحذیفہ سے مراد موسیٰ بن مسعود ہیں۔
وأخرجه أحمد 24/ (15657)، وابن ماجه (1474) من طرق عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (15657/24) اور ابن ماجہ (1474) نے سفیان ثوری کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
(1) لم يخرجه البخاري، وإنما أخرجه مسلم فقط برقم (977) و (1975) (37).
علّت / فنی نکتہ: (1) اسے بخاری نے نہیں بلکہ صرف امام مسلم (977) نے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1401 سے ماخوذ ہے۔