کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: میت کے گھر والوں کے لیے کھانا بھیجنے کا بیان۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا جعفر بن خالد بن سارةَ المخزومي، أخبرني أبي - وكان صديقًا لعبد الله بن جعفر - أنه سَمِعَ عبد الله بن جعفر قال: لما نُعيَ جعفرٌ، قال النبيُّ ﷺ: "اصنَعوا لآلِ جعفرٍ طعامًا، فقد أتاهم أمرٌ يَشغَلُهم" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وجعفر بن خالد بن سارةَ من أكابر مشايخ قريش، وهو كما قال شعبة: اكتُبوا عن الأشراف فإنهم لا يَكذِبون، وقد رَوَى غيرَ هذا الحديث مفسَّرًا:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب جعفر (رضی اللہ عنہ) کی شہادت کی خبر آئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرو کیونکہ ان پر ایسا معاملہ آ پڑا ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور جعفر بن خالد بن سارہ قریش کے اکابر مشائخ میں سے ہیں، ان کے بارے میں شعبہ نے کہا ہے کہ اشراف سے حدیث لکھا کرو کیونکہ وہ جھوٹ نہیں بولتے۔ انہوں نے اس کے علاوہ ایک مفصل حدیث بھی روایت کی ہے:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1393
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل خالد بن سارة المخزومي، فقد روى عنه ابنه جعفر وعطاء بن أبي رباح، وهما ثقتان، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وحسّن له الترمذي حديثه هذا، وقال الذهبي في "الميزان" في ترجمته: يكفيه أنه روى عنه أيضًا عطاء. الحميدي: هو عبد الله بن الزبير، وسفيان: هو ابن عيينة.» [ترقيم الرساله 1393] [ترقيم الشركة 1381]
أخبرَناه أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَمِيم الحَنْظَلي ببغداد، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقاشي، حدثنا أبو عاصم، أخبرني جعفر بن خالد بن سارة - وقد حدثنا ابنُ جُرَيج عنه - قال: حدثني أبي، أنَّ عبد الله بن جعفر قال: لو رأَيتَني وقُتَمَ وعُبيدَ الله بن العباس نلعبُ، إذ مَرَّ رسولُ الله ﷺ على دابةٍ فقال: "احمِلوا هذا إليَّ" فجَعَلَني أمامه، ثم قال لقُثَمَ: "احملوا هذا إليَّ" فَجَعَلَه وراءَه، ما استَحيَى من عمِّه العباس أن حَمَلَ قُثَمَ وتركَ عُبيدَ الله، ثم مَسَحَ برأسي ثلاثًا، فلما مَسَحَ قال: "اللهمَّ اخلُفْ جعفرًا في ولدِه" قلت لعبد الله بن جعفر: ما فَعَلَ قُثَمُ؟ قال: استُشهِد، قلتُ لعبد الله: الله ورسولُه كان أعلمَ بخِيَرِه، قال: أَجل (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کاش تم مجھے، قثم اور عبید اللہ بن عباس کو کھیلتے ہوئے دیکھتے جب رسول اللہ ﷺ ایک سواری پر وہاں سے گزرے تو فرمایا: ”اسے میرے پاس اٹھا کر لاؤ“، چنانچہ آپ ﷺ نے مجھے اپنے آگے بٹھا لیا، پھر قثم کے بارے میں فرمایا: ”اسے میرے پاس اٹھا کر لاؤ“ تو انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا، آپ ﷺ نے اپنے چچا عباس (رضی اللہ عنہ) سے حیا نہ کی کہ قثم کو تو بٹھا لیا اور عبید اللہ کو چھوڑ دیا۔ پھر آپ ﷺ نے تین بار میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور جب ہاتھ پھیرتے تو فرماتے: ”اے اللہ! جعفر کے بچوں میں ان کا جانشین بن جا۔“ میں نے عبداللہ بن جعفر سے پوچھا: قثم کا کیا بنا؟ انہوں نے کہا: وہ شہید ہو گئے، میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ان کی خیریت کو بہتر جانتے تھے، انہوں نے کہا: ہاں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1394
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل خالد بن سارة المخزومي. أبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد النبيل، وابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز.» [ترقيم الرساله 1394] [ترقيم الشركة 1382]
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، أنَّ رَوْح بن عُبادةَ حدثهم، أخبرنا ابن جُريج، أخبرني جعفر بن خالد، عن أبيه، عن عبد الله بن جعفرٍ، قال: مَسَح رسولُ الله ﷺ بيدِه على رأسي - قال: أظنُّه قال: ثلاثًا - كلما مَسَحَ قال: "اللهمَّ اخلُفْ جعفرًا في ولدِه" (2). قد أتى جعفر بنُ خالد بسُنَّتين عزيزتين، إحداهما: مَسْحُ رأس اليتيم، والأخرى: تفقُّد أهل المُصيبة بما يَتقوَّتون ليلتَهم، وفَّقنا الله لاستعمالِه عنه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا - راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے تین بار کہا - اور جب بھی ہاتھ پھیرتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي وَلَدِهِ» ”اے اللہ! جعفر کے بچوں میں ان کا جانشین بن جا۔“
جعفر بن خالد نے دو نایاب سنتیں بیان کی ہیں: ایک یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا اور دوسری غمزدہ اہل خانہ کی خبر گیری کرنا تاکہ وہ رات کا کھانا کھا سکیں، اللہ ہمیں ان پر عمل کی توفیق دے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1395
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،كسابقه.» [ترقيم الرساله 1395] [ترقيم الشركة 1383]