کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جب اللہ کسی بندے کی روح کسی زمین میں قبض کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے وہاں کوئی ضرورت پیدا کر دیتا ہے۔
ما حدَّثَناه أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسين بن بشار الخَيّاط، حدثنا إسحاق بن يوسف الأزرق، حدثنا داود بن أبي هند، عن الحسن، عن جُنْدُب بن سفيان قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا أراد الله قبْضَ عبدٍ بأرضٍ، جَعَلَ له فيها - أو بها - حاجةً" (1). ومنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کو کسی خاص زمین پر قبض کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے وہاں کوئی ضرورت یا کام پیدا کر دیتا ہے۔“ اور انہی میں سے ایک یہ ہے:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1373
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، غير أن فيه عنعنة الحسن» [ترقيم الرساله 1373] [ترقيم الشركة 1361]
ما أخبرني علي بن العباس الإسكندراني العدل بمكة، حدثنا أبو جعفر أحمد بن عبد الواحد الحِمْصي، حدثنا كَثِير بن عُبيد المَذْحِجي، حدثنا محمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن عبد الله بن مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إذا كانت مَنِيَّةُ أحدِكم بأرضٍ، أُتيحَتْ له الحاجة فيَقْصِدُ إليها، فيكونُ أقصى أثرٍ منه، فتُقبَضُ رُوحُه فيها، فتقولُ الأرض يوم القيامة: ربِّ هذا ما استَودَعْتَني" (1). ومنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت کسی خاص زمین میں لکھا ہوتا ہے تو اس کے لیے وہاں کوئی حاجت پیدا کر دی جاتی ہے، پھر وہ اسی کی طرف قصد کرتا ہے، اور جب وہ اپنے آخری نشانِ قدم تک پہنچ جاتا ہے تو وہاں اس کی روح قبض کر لی جاتی ہے، پھر قیامت کے دن وہ زمین کہے گی: اے میرے رب! یہ تیری وہ امانت ہے جو تو نے میرے پاس رکھی تھی۔“ اور انہی میں سے ایک یہ ہے:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1374
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 1374] [ترقيم الشركة 1362]
ما حدَّثَناه أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا محمد بن موسى الباشاني، حدثنا علي بن الحسن (2) بن شَقِيق، حدثنا أبو حمزة السُّكَّري، عن أبي إسحاق، عن مَطَر بن عُكامِس العَبْديِّ قال: قال رسول الله ﷺ: "ما جُعِل أجَلُ رجلٍ في أرضٍ، إلّا جُعِلتْ له فيها حاجةٌ" (3). ومنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مطر بن عکامس عبدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کی موت کا وقت کسی زمین میں مقرر نہیں فرمایا مگر یہ کہ اس کے لیے وہاں جانے کی کوئی ضرورت پیدا فرما دی ہے۔“ اور انہی میں سے ایک یہ ہے:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1375
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 1375] [ترقيم الشركة 1363]
ما حدَّثَناه أبو علي الحافظ غيرَ مرةٍ، أخبرنا الحسين بن نَهَار العسكري، حدثنا زيد بن الحَرِيش، حدثنا عِمْران بن عُيَينة، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعبي، عن عُروة بن مُضَرِّس قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا أرادَ الله قَبْضَ عبدٍ بأرضٍ، جَعَلَ له إليها حاجةً" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کو کسی مخصوص زمین پر قبض کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے وہاں جانے کی کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1376
درجۂ حدیث محدثین: صحيح بما قبله
تخریج حدیث «صحيح بما قبله، وهذا إسناد ضعيف، الحسين بن نهار العسكري، كذا وقعت تسميته هنا، ولم نتبيَّنه، وسماه في "شعب الإيمان" (9424) من طريق المصنف: الحسين بن نبهان العسكري، وفي "إتحاف المهرة 11/ 163: الحسين بن هانئ، وكل هذه التسميات لم نجد لها ذكرًا فيما بين أيدينا من مصادر، إلّا ما ...» [ترقيم الرساله 1376] [ترقيم الشركة 1364]