حدیث نمبر: 1374
ما أخبرني علي بن العباس الإسكندراني العدل بمكة، حدثنا أبو جعفر أحمد بن عبد الواحد الحِمْصي، حدثنا كَثِير بن عُبيد المَذْحِجي، حدثنا محمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن عبد الله بن مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إذا كانت مَنِيَّةُ أحدِكم بأرضٍ، أُتيحَتْ له الحاجة فيَقْصِدُ إليها، فيكونُ أقصى أثرٍ منه، فتُقبَضُ رُوحُه فيها، فتقولُ الأرض يوم القيامة: ربِّ هذا ما استَودَعْتَني" (1). ومنها:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت کسی خاص زمین میں لکھا ہوتا ہے تو اس کے لیے وہاں کوئی حاجت پیدا کر دی جاتی ہے، پھر وہ اسی کی طرف قصد کرتا ہے، اور جب وہ اپنے آخری نشانِ قدم تک پہنچ جاتا ہے تو وہاں اس کی روح قبض کر لی جاتی ہے، پھر قیامت کے دن وہ زمین کہے گی: اے میرے رب! یہ تیری وہ امانت ہے جو تو نے میرے پاس رکھی تھی۔“ اور انہی میں سے ایک یہ ہے:

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1374
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 1374] [ترقيم الشركة 1362]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهو مكرر (124).
تکرار: (1) "حدیث صحیح" ہے اور یہ نمبر (124) کی تکرار ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1374 سے ماخوذ ہے۔