کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ذکرِ الٰہی میں آواز بلند کرنے کی فضیلت۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الحميد أبو جعفر الحارثي، حدثنا إسحاق بن منصور السَّلُولي، حدثنا محمد بن مُسلِم الطائفي، عن عمرو بن دينار، عن جابر: أنَّ رجلًا كان يَرفَع صوتَه بالذِّكر، فقال رجل: لو أنَّ هذا خَفَضَ من صوتِه، فقال رسول الله ﷺ: "فإنَّه أوّاهٌ". قال: فمات، فرأى رجلٌ نارًا في قبره، فأتاه، فإذا رسولُ الله ﷺ فيه وهو يقول: "هَلُمُّوا صاحِبَكم"، فإذا هو الرجلُ الذي كان يَرفَع صوته بالذِّكْر (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص بلند آواز سے ذکر کر رہا تھا، کسی نے کہا: کاش یہ اپنی آواز تھوڑی دھیمی کر لیتا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کچھ نہ کہو، یہ تو اللہ کے حضور بہت آہ و زاری کرنے والا (اوّاہ) ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر وہ شخص فوت ہو گیا، ایک آدمی نے اس کی قبر میں «نارًا» (روشنی) دیکھی، وہ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ قبر کے اندر موجود ہیں اور فرما رہے ہیں: ”اپنے ساتھی کو میرے قریب کرو“، دیکھا تو وہ وہی شخص تھا جو بلند آواز سے ذکر کیا کرتا تھا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1377
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل محمد بن مسلم الطائفي.» [ترقيم الرساله 1377] [ترقيم الشركة 1365]
أخبرَناه علي بن عيسى، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا إبراهيم بن نَصْر، حدثنا أبو أحمد الزُّبَيري، حدثنا محمد بن مُسلِم الطائفي، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله قال: رأيتُ نارًا في المقابر، فأَتيتُهم فإذا رسولُ الله ﷺ في القبر وهو يقول: "ناوِلُوني صاحِبَكم" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسنادٍ مُعضَل:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے قبرستان میں آگ دیکھی، میں وہاں پہنچا تو رسول اللہ ﷺ قبر میں تشریف فرما تھے اور فرما رہے تھے: ”اپنے ساتھی کو میرے حوالے کرو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک معضل سند کے ساتھ شاہد حدیث بھی موجود ہے:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1378
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،كالذي قبله.» [ترقيم الرساله 1378] [ترقيم الشركة 1366]
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني، حدثني أبي، حدثني أبي (1)، حدثنا وكيع، عن شعبة. وأخبرني الحسين بن علي، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا بُنْدار، حدثنا محمد، حدثنا شعبة، عن أبي يونس - وهو حاتم بن أبي صَغِيرة - قال: سمعتُ رجلًا كان بمكة، وكان رُوميًّا - وفي حديث شعبة: اسمه: وقَّاص - يحدِّث عن أبي ذرٍّ، قال: كان رجلٌ يطوف بالبيت وهو يقول في دُعائِه: أَوَّهُ أَوَّهُ، فقال رسول الله ﷺ: "إِنَّهُ لأَوّاه"، قال أبو ذر: فخرجتُ ذات ليلةٍ فإذا النبيُّ ﷺ في المقابر يَدفِنُ ذلك الرجلَ ومعه المِصْباح (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا اور اپنی دعا میں «اوّه اوّه» (آہ و زاری) کر رہا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک یہ بہت آہ و زاری کرنے والا (اوّاہ) ہے۔“ ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات نکلا تو دیکھا کہ نبی کریم ﷺ قبرستان میں چراغ لیے اس شخص کو دفن فرما رہے ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1379
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الرومي الذي يحدِّث عن أبي ذر، ولا ندري ما وجه وصف المصنِّف له بالإعضال إلا إن أراد هذا الإبهام! محمد بن إسحاق: هو ابن خزيمة، وبندار: هو محمد بن بشار، وشيخه محمد: هو ابن جعفر غندر.» [ترقيم الرساله 1379] [ترقيم الشركة 1367]