المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
إِذَا أَرَادَ اللَّهُ قَبْضَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ فِيهَا حَاجَةً باب: جب اللہ کسی بندے کی روح کسی زمین میں قبض کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے وہاں کوئی ضرورت پیدا کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 1375
ما حدَّثَناه أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا محمد بن موسى الباشاني، حدثنا علي بن الحسن (2) بن شَقِيق، حدثنا أبو حمزة السُّكَّري، عن أبي إسحاق، عن مَطَر بن عُكامِس العَبْديِّ قال: قال رسول الله ﷺ: "ما جُعِل أجَلُ رجلٍ في أرضٍ، إلّا جُعِلتْ له فيها حاجةٌ" (3). ومنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مطر بن عکامس عبدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کی موت کا وقت کسی زمین میں مقرر نہیں فرمایا مگر یہ کہ اس کے لیے وہاں جانے کی کوئی ضرورت پیدا فرما دی ہے۔“ اور انہی میں سے ایک یہ ہے:
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الحسين.
فنی نکتہ: (2) قلمی نسخوں میں "الحسین" ہو گیا تھا۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن موسى الباشاني - وهو محمد بن موسى بن حاتم - والحديث مكرر ما سلف برقم (127).
تکرار: (3) "حدیث صحیح" ہے؛ محمد بن موسیٰ الباشانی کی وجہ سے سند حسن ہے اور یہ نمبر (127) کی تکرار ہے۔
فنی نکتہ: (2) قلمی نسخوں میں "الحسین" ہو گیا تھا۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن موسى الباشاني - وهو محمد بن موسى بن حاتم - والحديث مكرر ما سلف برقم (127).
تکرار: (3) "حدیث صحیح" ہے؛ محمد بن موسیٰ الباشانی کی وجہ سے سند حسن ہے اور یہ نمبر (127) کی تکرار ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1375 سے ماخوذ ہے۔