المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
إِذَا أَرَادَ اللَّهُ قَبْضَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ فِيهَا حَاجَةً باب: جب اللہ کسی بندے کی روح کسی زمین میں قبض کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے وہاں کوئی ضرورت پیدا کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 1373
ما حدَّثَناه أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسين بن بشار الخَيّاط، حدثنا إسحاق بن يوسف الأزرق، حدثنا داود بن أبي هند، عن الحسن، عن جُنْدُب بن سفيان قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا أراد الله قبْضَ عبدٍ بأرضٍ، جَعَلَ له فيها - أو بها - حاجةً" (1). ومنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کو کسی خاص زمین پر قبض کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے وہاں کوئی ضرورت یا کام پیدا کر دیتا ہے۔“ اور انہی میں سے ایک یہ ہے:
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، غير أن فيه عنعنة الحسن - وهو ابن أبي الحسن
البصري - وهو لم يصح له سماع من جندب كما قال أبو حاتم في "مراسيل" ابنه (138).
درجۂ حدیث: (1) "حدیث صحیح" ہے اور راوی ثقہ ہیں، اگرچہ حسن بصری کا جندب سے سماع ثابت نہیں مگر شواہد موجود ہیں۔
جندب بن سفيان صحابيه: هو جندب بن عبد الله بن سفيان البجلي، نُسب إلى جده.
فنی نکتہ: جندب بن سفیان سے مراد جندب بن عبداللہ البجلی ہیں (دادا کی طرف نسبت ہے)۔
وله شواهد صحيحة، انظر الأحاديث التالية.
متابعات و شواہد: اس کے صحیح شواہد اگلی روایات میں موجود ہیں۔
البصري - وهو لم يصح له سماع من جندب كما قال أبو حاتم في "مراسيل" ابنه (138).
درجۂ حدیث: (1) "حدیث صحیح" ہے اور راوی ثقہ ہیں، اگرچہ حسن بصری کا جندب سے سماع ثابت نہیں مگر شواہد موجود ہیں۔
جندب بن سفيان صحابيه: هو جندب بن عبد الله بن سفيان البجلي، نُسب إلى جده.
فنی نکتہ: جندب بن سفیان سے مراد جندب بن عبداللہ البجلی ہیں (دادا کی طرف نسبت ہے)۔
وله شواهد صحيحة، انظر الأحاديث التالية.
متابعات و شواہد: اس کے صحیح شواہد اگلی روایات میں موجود ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1373 سے ماخوذ ہے۔