المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
إِذَا أَرَادَ اللَّهُ قَبْضَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ فِيهَا حَاجَةً باب: جب اللہ کسی بندے کی روح کسی زمین میں قبض کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے وہاں کوئی ضرورت پیدا کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 1376
ما حدَّثَناه أبو علي الحافظ غيرَ مرةٍ، أخبرنا الحسين بن نَهَار العسكري، حدثنا زيد بن الحَرِيش، حدثنا عِمْران بن عُيَينة، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعبي، عن عُروة بن مُضَرِّس قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا أرادَ الله قَبْضَ عبدٍ بأرضٍ، جَعَلَ له إليها حاجةً" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کو کسی مخصوص زمین پر قبض کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے وہاں جانے کی کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح بما قبله، وهذا إسناد ضعيف، الحسين بن نهار العسكري، كذا وقعت تسميته هنا، ولم نتبيَّنه، وسماه في "شعب الإيمان" (9424) من طريق المصنف: الحسين بن نبهان العسكري، وفي "إتحاف المهرة 11/ 163: الحسين بن هانئ، وكل هذه التسميات لم نجد لها ذكرًا فيما بين أيدينا من مصادر، إلّا ما وقع في "تهذيب الكمال": الحسين بن نبهان العسكري، ذكره فيمن روى عن محمد بن زياد الزيادي 25/ 216، وفيمن روى عن محمد بن سعيد بن غالب البغدادي 25/ 275. وزيد بن الحَرِيش، قال ابن القطان: مجهول الحال، كما في "لسان الميزان" 3/ 550، وعمران بن عيينة صاحب أوهام. وقد خالف فيه عمرانُ ثقاتِ أصحاب إسماعيل بن أبي خالد الذين رووه عنه عن قيس بن أبي خازم عن عبد الله بن مسعود، كما سلف قبله بحديثين (1374)، وانظر ما سلف برقم (122) وما بعده.
درجۂ حدیث: (1) پچھلی روایات کی وجہ سے صحیح ہے مگر یہ سند ضعیف ہے۔ حسین بن نہار (یا نبهان) غیر معروف ہیں، اور زید بن حریش مجہول الحال ہیں۔ عمران بن عیینہ نے ثقات کی مخالفت کی ہے۔ نمبر (1374) اور (122) دیکھیں۔
درجۂ حدیث: (1) پچھلی روایات کی وجہ سے صحیح ہے مگر یہ سند ضعیف ہے۔ حسین بن نہار (یا نبهان) غیر معروف ہیں، اور زید بن حریش مجہول الحال ہیں۔ عمران بن عیینہ نے ثقات کی مخالفت کی ہے۔ نمبر (1374) اور (122) دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1376 سے ماخوذ ہے۔