کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اگر بچہ پیدائش کے وقت آواز نکالے (زندہ پیدا ہو) تو وہ وارث ہوگا اور اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔
أخبرَناه عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا إسماعيل المكِّي، عن أبي الزُّبير، عن جابر، قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا استَهَلَّ الصبيُّ وُرِّثَ وصُلِّيَ عليه" (1). الشيخان لم يحتجَّا بإسماعيل بن مسلم.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب بچہ (پیدا ہوتے ہی) چیخ مارے تو وہ وارث بھی بنے گا اور اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔“
شیخین نے اسماعیل بن مسلم سے احتجاج نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1361
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
تخریج حدیث «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف إسماعيل بن مسلم المكي، وقد اختلف في رفعه ووقفه، ورجح وقفَه الترمذي والنسائي والدارقطني. أبو الزبير: هو محمد بن مسلم بن تَدرُس المكي.» [ترقيم الرساله 1361] [ترقيم الشركة 1349]
حدثنا أحمد بن إسحاق بن أيوب الفقيه، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حَبّان، عن أبي عَمْرةَ، عن زيد بن خالد الجُهَنيِّ قال: كنّا مع النبي ﷺ بخَيبَر، فمات رجلٌ منّا من أشجَعَ، فقال رسول الله ﷺ: "صَلُّوا عليه"، فذهبنا ننظُرُ، فوجدنا خَرَزًا من خَرَزِ يهودَ، ما يُساوي دِرهَمَين (1). رواه الناس عن يحيى بن سعيد. أبو عَمْرةَ هذا: رجلٌ من جُهَينةَ معروفٌ بالصِّدق، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم خیبر (کی جنگ) کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، تو ہم میں سے قبیلہ اشجع کا ایک شخص فوت ہو گیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے اس ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو (میں نہیں پڑھوں گا)۔“ ہم نے جب اس کی وجہ جاننے کے لیے تلاشی لی تو اس کے سامان سے یہودیوں کے (مالِ غنیمت کے) منکوں میں سے کچھ منکے ملے جن کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہ تھی۔
اس حدیث کو لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے، اور یہ ابو عمرہ جہنی نامی شخص ہیں جو سچائی میں مشہور ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1362
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، أبو عمرة ذكره ابن حبان في "الثقات"، وصحَّح حديثه ابن الجارود وابن حبان، وأبو نعيم في "الحلية" 8/ 262، والجورقاني في "الأباطيل والصحاح"، وقال ابن عساكر في "معجمه": حديث حسن. الحميدي: اسمه عبد الله بن الزبير، وسفيان: هو ابن عيينة، ويحيى بن سعيد: هو الأنصاري.» [ترقيم الرساله 1362] [ترقيم الشركة 1350]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مِهْران بن خالد الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن سِمَاك بن حَرْب، عن جابر بن سَمُرة قال: مات رجلٌ على عهد النبي ﷺ فأتاه رجلٌ، فقال: مات فلان، فقال له النبي ﷺ: "لم يَمُتْ"، ثم أتاه الثانيةَ، فقال: مات فلان، فقال رسول الله ﷺ: "لم يَمُتْ"، ثم أتاه الثالثةَ، فقال: مات فلان، فقال رسول الله ﷺ: "كيف مات؟ " قال: نَحَرَ نفسَه بمِشْقَصٍ كان معه، فلم يُصلِّ عليه النبيُّ ﷺ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں ایک شخص کا انتقال ہوا تو ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: فلاں شخص فوت ہو گیا ہے، نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”وہ نہیں مرا۔“ وہ شخص دوسری بار آیا اور عرض کیا کہ فلاں فوت ہو گیا ہے، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”وہ نہیں مرا۔“ جب وہ تیسری مرتبہ آیا اور کہا کہ فلاں فوت ہو گیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”وہ کیسے مرا؟“ اس نے بتایا کہ اس نے اپنے پاس موجود چوڑے پھل والے تیر «مِشْقَصٍ» کے ذریعے خودکشی کر لی ہے، تو نبی کریم ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھائی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا!
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1363
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل سماك بن حرب وأحمد بن مهران الأصبهاني. إسرائيل: هو ابن يونس السبيعي.» [ترقيم الرساله 1363] [ترقيم الشركة 1351]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سُلَيمان المُرَاديّ، حدثنا أَسَدُ بن موسى. وأخبرنا جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي ببغداد، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا سليمان بن داود الهاشمي؛ قالا: حدثنا إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن عبد الله بن أبي قتادةَ، عن أبيه أبي قتادةَ قال: كان النبيُّ ﷺ إذا دُعِي إلى جنازةٍ سأل عنها، فإن أُثني عليها خيرٌ صلَّى عليها، وإن أُثني عليها غيرُ ذلك قال لأهلها: "شأنَكم بها"، ولم يُصلِّ عليها (1).
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو جب کسی جنازے کے لیے بلایا جاتا تو آپ اس (میت) کے بارے میں دریافت فرماتے، اگر اس کی تعریف خیر کے ساتھ کی جاتی تو آپ ﷺ اس کی نمازِ جنازہ پڑھاتے، اور اگر اس کے علاوہ کچھ اور (برائی) بیان کی جاتی تو آپ ﷺ اس کے گھر والوں سے فرما دیتے: ”تم ہی اس کا معاملہ دیکھو“، اور آپ ﷺ خود اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھاتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1364
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إبراهيم بن سعد: هو ابن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف.» [ترقيم الرساله 1364] [ترقيم الشركة 1352]
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف الحافظ إملاءً، حدثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب العَبْدي، حدثنا أبو الحسين سُرَيج بن النُّعمان الجَوْهَري، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن سعيد بن عُبيد بن السَّبَّاق، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قد كنَّا مَقْدَمَ النبيِّ ﷺ إذا حُضِر منّا الميتُ، آذنَّا النبيَّ ﷺ فَحَضَرَه واستغفَرَ له، حتى إذا قُبِض انصرَفَ النبيُّ ﷺ ومن معه حتى يُدفَن، وربما طالَ حَبْسُ ذلك على نبيِّ الله ﷺ، فلما خَشِينا مشقَّةَ ذلك عليه قال بعضُ القوم لبعض: لو كنا لا نُؤذِنُ النبيَّ ﷺ بأحدٍ حتى يُقبَضَ، فإذا قُبِضَ آذنّاه، فلم يكن عليه في ذلك مشقَّةٌ ولا حبسٌ، ففعلنا ذلك، وكنا نُؤذِنُه بالميت بعد أن يموت، فيأتيهِ فيصلِّي عليه، فربما انصَرَفَ، وربما مَكَثَ حتى يُدفَنَ الميت، فكنا على ذلك حِينًا، ثم قلنا: لو لم نُشخِصِ النبيَّ ﷺ وحملنا جنازتَنا إليه حتى يصلِّيَ عليه عند بيته، لكان ذلك أرفَقَ به، ففعلنا، فكان ذلك الأمرُ إلى اليوم (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد أمليتُه فيما مضى مختصرًا.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ (مدینہ) تشریف لائے تو ہمارا طریقہ یہ تھا کہ جب ہم میں سے کسی کی وفات کا وقت قریب آتا تو ہم نبی کریم ﷺ کو مطلع کرتے، آپ ﷺ تشریف لاتے اور اس کے لیے استغفار کرتے یہاں تک کہ جب اس کی روح قبض ہو جاتی تو آپ ﷺ اور آپ کے ساتھی تدفین تک وہیں رہتے، بسا اوقات اللہ کے نبی ﷺ کو وہاں بہت دیر تک رکنا پڑتا، جب ہمیں اس بات سے آپ ﷺ کے لیے مشقت کا اندیشہ ہوا تو بعض لوگوں نے بعض سے کہا: اگر ہم نبی کریم ﷺ کو اس وقت تک اطلاع نہ دیں جب تک کہ روح قبض نہ ہو جائے، اور روح قبض ہونے کے بعد آپ کو بتائیں تو اس میں آپ ﷺ پر مشقت اور طویل انتظار کا بوجھ نہیں ہوگا، چنانچہ ہم نے ایسا ہی کرنا شروع کر دیا اور میت کے فوت ہونے کے بعد آپ ﷺ کو مطلع کرتے، آپ ﷺ تشریف لاتے اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھاتے، پھر کبھی آپ ﷺ واپس تشریف لے جاتے اور کبھی تدفین تک وہیں رکتے، ہم ایک عرصے تک اسی طریقے پر رہے، پھر ہم نے آپس میں کہا: اگر ہم نبی کریم ﷺ کو تکلیف نہ دیں اور اپنے جنازے خود آپ ﷺ کے پاس لے جائیں تاکہ آپ ﷺ اپنے گھر کے پاس ہی ان کی نمازِ جنازہ پڑھا دیا کریں تو یہ آپ ﷺ کے لیے زیادہ سہولت کی بات ہوگی، چنانچہ ہم نے یہی طریقہ اپنا لیا اور وہ معاملہ آج تک اسی طرح چلا آ رہا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میں نے اسے پہلے مختصراً املاء کروایا تھا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1365
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات غير فليح بن سليمان
تخریج حدیث «رجاله ثقات غير فليح بن سليمان، ففيه كلام يحطه عن رتبة الصحيح. وانظر ما سلف برقم (1338).» [ترقيم الرساله 1365] [ترقيم الشركة 1353]