المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
صَلَاةُ الْجِنَازَةِ فِي الْبَيْتِ باب: نمازِ جنازہ گھر میں ادا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1366
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الحسن بن مُهاجِر، حدثنا أبو الطّاهر وهارون بن سعيد، قالا: حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن عُمَارة بن غَزِيَّة، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أبيه: أنَّ أبا طلحةَ دعا رسولَ الله ﷺ إلى عُمير بن أبي طلحة، حين تُوفِّي، فأتاهم رسولُ الله ﷺ، فصلَّى عليه في منزلهم، فتقدَّم رسولُ الله ﷺ، وكان أبو طلحة وراءَه وأمُّ سُليم وراءَ أبي طلحة، ولم يكن معهم غيرُهم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وسُنَّةٌ غريبةٌ في إباحة صلاة النساء على الجنائز، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو (اپنے بیٹے) عمیر بن ابی طلحہ کی وفات پر بلایا، تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور ان کے گھر میں ہی اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی، رسول اللہ ﷺ آگے کھڑے ہوئے، ابوطلحہ آپ ﷺ کے پیچھے اور امِ سلیم ابوطلحہ کے پیچھے کھڑی ہوئیں، اور ان کے علاوہ وہاں کوئی اور موجود نہ تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ ایک نایاب (غریب) سنت ہے جو عورتوں کے جنازے کی نماز پڑھنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده إلى عبد الله بن أبي طلحة صحيح، إلّا أنَّ عبد الله هذا لم يدرك هذه القصة، والغالب أنه رواها عن أحدٍ من أهل بيته، فهم أصحاب القصة، وبذلك يكون قد أرسله عن صحابيٍّ، ولا يضر ذلك في صحة الحديث، والله أعلم. أبو الطاهر: هو أحمد بن عمرو بن عبد الله بن السرح المصري.
درجۂ حدیث: (1) عبداللہ بن ابی طلحہ تک سند صحیح ہے، مگر چونکہ انہوں نے یہ واقعہ خود نہیں دیکھا اس لیے یہ مرسل صحابی ہے جو کہ صحتِ حدیث کے لیے نقصان دہ نہیں۔ ابوالطاہر سے مراد احمد بن عمرو بن السرح ہیں۔
وأخرجه البيهقي 4/ 30 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (30/4) نے حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطحاوي في "معاني الآثار" 1/ 508، والطبراني في "المعجم الكبير" (4727) من طريقين عن عبد الله بن وهب، به.
حوالہ / مصدر: اسے طحاوی اور طبرانی (4727) نے ابن وہب کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وله شاهد من حديث أنس بن مالك، أخرجه أحمد 20/ (13270) من طريق عبد الله بن عمر العمري، عن أم يحيى قالت: سمعت أنس بن مالك يقول: مات ابن لأبي طلحة، فصلى عليه النبي ﷺ، فقام أبو طلحة خلف النبي ﷺ، وأم سليم خلف أبي طلحة، كأنهم عرف ديك، وأشار بيده. وإسناده ضعيف لضعف عبد الله العمري وجهالة أم يحيى.
درجۂ حدیث: حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ایک شاہد روایت احمد (13270/20) میں مروی ہے مگر عبداللہ العمری کے ضعف اور ام یحییٰ کی جہالت کی وجہ سے وہ ضعیف ہے۔
درجۂ حدیث: (1) عبداللہ بن ابی طلحہ تک سند صحیح ہے، مگر چونکہ انہوں نے یہ واقعہ خود نہیں دیکھا اس لیے یہ مرسل صحابی ہے جو کہ صحتِ حدیث کے لیے نقصان دہ نہیں۔ ابوالطاہر سے مراد احمد بن عمرو بن السرح ہیں۔
وأخرجه البيهقي 4/ 30 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (30/4) نے حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطحاوي في "معاني الآثار" 1/ 508، والطبراني في "المعجم الكبير" (4727) من طريقين عن عبد الله بن وهب، به.
حوالہ / مصدر: اسے طحاوی اور طبرانی (4727) نے ابن وہب کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وله شاهد من حديث أنس بن مالك، أخرجه أحمد 20/ (13270) من طريق عبد الله بن عمر العمري، عن أم يحيى قالت: سمعت أنس بن مالك يقول: مات ابن لأبي طلحة، فصلى عليه النبي ﷺ، فقام أبو طلحة خلف النبي ﷺ، وأم سليم خلف أبي طلحة، كأنهم عرف ديك، وأشار بيده. وإسناده ضعيف لضعف عبد الله العمري وجهالة أم يحيى.
درجۂ حدیث: حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ایک شاہد روایت احمد (13270/20) میں مروی ہے مگر عبداللہ العمری کے ضعف اور ام یحییٰ کی جہالت کی وجہ سے وہ ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1366 سے ماخوذ ہے۔