کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نمازِ جنازہ میں تین صفیں قائم ہونے کی فضیلت۔
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة، حدثنا عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئُ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، عن شُرَحْبيل بن شَرِيكَ المَعافِري، عن عُلَيِّ بن رباح اللَّخْمي، عن أبي رافع قال: قال رسول الله ﷺ: "من غَسّل ميّتًا فكَتَم عليه، غُفِر له أربعين مرةً، ومن كفَّن ميتًا، كَسَاه الله من سُندسِ وإسْتَبرقِ الجنة، ومن حَفَر لميتٍ قبرًا وأَجنَّه فيه، أُجريَ له من الأجر كأجرِ مَسْكَنٍ سَكَّنه إلى يوم القيامة" (1).
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی میت کو غسل دیا اور اس کے عیوب کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ اس کی چالیس مرتبہ مغفرت فرمائے گا، اور جس نے کسی میت کو کفن پہنایا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے باریک اور دبیز ریشم کے لباس پہنائے گا، اور جس نے کسی میت کے لیے قبر کھودی اور اسے اس میں دفن کیا، تو اس کے لیے قیامت تک ایسے اجر کا سلسلہ جاری کر دیا جاتا ہے جیسے اس نے اسے رہنے کے لیے مکان دے دیا ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1356
درجۂ حدیث محدثین: إسناده جيد
تخریج حدیث «إسناده جيد من أجل شرحبيل بن شريك المعافري.» [ترقيم الرساله 1356] [ترقيم الشركة 1344]
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون حدثنا محمد بن إسحاق. وأخبرنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا محمد بن محمد بن رجاء بن السِّنْدي، حدثنا يعقوب بن إبراهيم، حدثنا إسماعيل ابن عُلَيّة، عن محمد بن إسحاق، عن يزيد بن أبي حَبِيب، عن مَرْثَد بن عبد الله اليَزَني، عن مالك بن هُبَيرة - وكانت له صحبة - قال: كان إذا أُتي بجنازةٍ ليُصلِّي عليها، فتقالَّ أهلَها، جزّأَهم صفوفًا ثلاثة، فصلَّى بهم عليها، ويقول: إنَّ رسول الله ﷺ قال: "ما صَفَّ صفوفٌ ثلاثةٌ من المسلمين على جنازةٍ، إلَّا أَوجَبَته". هذا لفظ حديث ابن عُلَيّة، وفي حديث المحبوبي: "إلّا غُفِر له" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کے پاس کوئی جنازہ لایا جاتا اور شرکاء کم ہوتے تو وہ ان کی تین صفیں بنا دیتے، پھر ان پر نماز جنازہ پڑھاتے اور فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”جس مسلمان کے جنازے پر تین صفیں بن جائیں، اس کے لیے (جنت) واجب ہو گئی۔“ ابن علیہ کی روایت کے لفظ «اوجبته» ہیں جبکہ محبوبی کی روایت میں «الا غفر له» (مگر اس کی مغفرت کر دی گئی) کے الفاظ ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1357
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، فقد صرَّح محمد بن إسحاق بالتحديث عند الروياني في "مسنده" (1537)، وحسنه الترمذي والنووي وابن حجر.» [ترقيم الرساله 1357] [ترقيم الشركة 1345]
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا محمد بن سعيد الأصبهاني، حدثنا شَرِيك، عن عبد الله بن عيسى بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن عبد الله بن جَبْر (1)، عن أنس بن مالكٍ، قال: كان غلامٌ يهوديٌّ يَخدُمُ النبي ﷺ، فمَرِض فعاده، وقال: "قل: أشهدُ أن لا إله إلّا الله وأنكَ رسول الله" فنظر الغلامُ إلى أبيه فقال: قل ما يقولُ لك محمد. قال: فلمَّا مات، قال رسول الله ﷺ: "صَلُّوا على أخيكُم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ بیمار ہوا تو آپ ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور فرمایا: ”کہو کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور (میرے متعلق کہو) کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ اس لڑکے نے اپنے باپ کی طرف دیکھا تو باپ نے کہا: محمد (ﷺ) جو کہہ رہے ہیں اسے مان لو۔ جب وہ لڑکا (کلمہ پڑھ کر) فوت ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے اس بھائی کی نمازِ جنازہ پڑھو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1358
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح دون قصة الأمر بالصلاة على الغلام اليهودي
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قصة الأمر بالصلاة على الغلام اليهودي، فقد تفرد بها شريك» [ترقيم الرساله 1358] [ترقيم الشركة 1346]
أخبرنا أحمد بن سَلْمان بن الحسن الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكْرَم، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا سعيد بن عبيد الله بن جُبَير بن حَيَّة، حدثني عمِّي زياد بن جُبَير بن حيَّة، حدثني أبي جُبَير بن حيَّة الثقفي، أنه سَمِع المغيرة بن شعبةَ يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "الراكبُ خلفَ الجنازةِ، والماشي قريبًا منها، والطفل يُصلَّى عليه (3). رواه يونس بن عُبيد عن زياد بن جُبَير:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”سوار جنازے کے پیچھے چلے، اور پیدل چلنے والا اس کے قریب رہے، اور بچے کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1359
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، على خِلاف في رفعه ووقفه.» [ترقيم الرساله 1359] [ترقيم الشركة 1347]
أخبرَناه علي بن حمشاذَ العَدْل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن بشار، حدثنا أبو همَّام محمد بن الزِّبْرِقان، حدثنا يونس بن عُبيد، عن زياد بن جُبَير بن حيَّة، عن أبيه، عن المغيرة بن شعبة - قال يونس: وحدثني بعضُ أهله أنه رَفَعَه إلى النبي ﷺ قال: الراكبُ يَسيرُ خلفَ الجنازةِ، والماشي عن يَمينِها وشِمالِها قريبًا (1)، والسِّقْط يُصلَّى عليه ويُدعَى لوالديه بالعافيةِ والرَّحمة (2). قال إبراهيم بن أبي طالب في عَقِب هذا الحديث: قولُ (3) يُونُس بن عُبيد: "وحدثني بعضُ أهله أنه رَفَعه إلى النبي ﷺ" روايةٌ ليونُسَ بن عُبيد عن سعيد بن عُبيدِ الله بن جُبير بن حَيَّة.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، فقد احتجَّ في "الصحيح" بحديث المعتمِر، عن سعيد بن عُبيد الله، عن زياد بن جُبَير، عن جُبَير بن حيَّة، عن المغيرة، الحديث الطويل (4). وشاهد هذه الأحاديث حديثُ إسماعيل بن مُسلِم المكي عن أبي الزُّبير:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سوار جنازے کے پیچھے چلے، اور پیدل چلنے والا اس کے دائیں اور بائیں طرف سے قریب ہو کر چلے، اور «سقط» (ناتمام بچہ جو مردہ پیدا ہو) کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کے والدین کے لیے عافیت اور رحمت کی دعا کی جائے گی۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی صحیح میں معتمر کی روایت سے اسی سند کے ساتھ ایک طویل حدیث نقل کی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1360
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره كسابقه
تخریج حدیث «صحيح لغيره كسابقه،» [ترقيم الرساله 1360] [ترقيم الشركة 1348]