المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ وُرِثَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ باب: اگر بچہ پیدائش کے وقت آواز نکالے (زندہ پیدا ہو) تو وہ وارث ہوگا اور اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف الحافظ إملاءً، حدثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب العَبْدي، حدثنا أبو الحسين سُرَيج بن النُّعمان الجَوْهَري، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن سعيد بن عُبيد بن السَّبَّاق، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قد كنَّا مَقْدَمَ النبيِّ ﷺ إذا حُضِر منّا الميتُ، آذنَّا النبيَّ ﷺ فَحَضَرَه واستغفَرَ له، حتى إذا قُبِض انصرَفَ النبيُّ ﷺ ومن معه حتى يُدفَن، وربما طالَ حَبْسُ ذلك على نبيِّ الله ﷺ، فلما خَشِينا مشقَّةَ ذلك عليه قال بعضُ القوم لبعض: لو كنا لا نُؤذِنُ النبيَّ ﷺ بأحدٍ حتى يُقبَضَ، فإذا قُبِضَ آذنّاه، فلم يكن عليه في ذلك مشقَّةٌ ولا حبسٌ، ففعلنا ذلك، وكنا نُؤذِنُه بالميت بعد أن يموت، فيأتيهِ فيصلِّي عليه، فربما انصَرَفَ، وربما مَكَثَ حتى يُدفَنَ الميت، فكنا على ذلك حِينًا، ثم قلنا: لو لم نُشخِصِ النبيَّ ﷺ وحملنا جنازتَنا إليه حتى يصلِّيَ عليه عند بيته، لكان ذلك أرفَقَ به، ففعلنا، فكان ذلك الأمرُ إلى اليوم (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد أمليتُه فيما مضى مختصرًا.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ (مدینہ) تشریف لائے تو ہمارا طریقہ یہ تھا کہ جب ہم میں سے کسی کی وفات کا وقت قریب آتا تو ہم نبی کریم ﷺ کو مطلع کرتے، آپ ﷺ تشریف لاتے اور اس کے لیے استغفار کرتے یہاں تک کہ جب اس کی روح قبض ہو جاتی تو آپ ﷺ اور آپ کے ساتھی تدفین تک وہیں رہتے، بسا اوقات اللہ کے نبی ﷺ کو وہاں بہت دیر تک رکنا پڑتا، جب ہمیں اس بات سے آپ ﷺ کے لیے مشقت کا اندیشہ ہوا تو بعض لوگوں نے بعض سے کہا: اگر ہم نبی کریم ﷺ کو اس وقت تک اطلاع نہ دیں جب تک کہ روح قبض نہ ہو جائے، اور روح قبض ہونے کے بعد آپ کو بتائیں تو اس میں آپ ﷺ پر مشقت اور طویل انتظار کا بوجھ نہیں ہوگا، چنانچہ ہم نے ایسا ہی کرنا شروع کر دیا اور میت کے فوت ہونے کے بعد آپ ﷺ کو مطلع کرتے، آپ ﷺ تشریف لاتے اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھاتے، پھر کبھی آپ ﷺ واپس تشریف لے جاتے اور کبھی تدفین تک وہیں رکتے، ہم ایک عرصے تک اسی طریقے پر رہے، پھر ہم نے آپس میں کہا: اگر ہم نبی کریم ﷺ کو تکلیف نہ دیں اور اپنے جنازے خود آپ ﷺ کے پاس لے جائیں تاکہ آپ ﷺ اپنے گھر کے پاس ہی ان کی نمازِ جنازہ پڑھا دیا کریں تو یہ آپ ﷺ کے لیے زیادہ سہولت کی بات ہوگی، چنانچہ ہم نے یہی طریقہ اپنا لیا اور وہ معاملہ آج تک اسی طرح چلا آ رہا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میں نے اسے پہلے مختصراً املاء کروایا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (2) فلیح بن سلیمان کے علاوہ تمام راوی ثقہ ہیں، فلیح کے بارے میں کلام موجود ہے جس سے درجہ گھٹ جاتا ہے۔ نمبر (1338) ملاحظہ فرمائیں۔