حدیث نمبر: 1363
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مِهْران بن خالد الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن سِمَاك بن حَرْب، عن جابر بن سَمُرة قال: مات رجلٌ على عهد النبي ﷺ فأتاه رجلٌ، فقال: مات فلان، فقال له النبي ﷺ: "لم يَمُتْ"، ثم أتاه الثانيةَ، فقال: مات فلان، فقال رسول الله ﷺ: "لم يَمُتْ"، ثم أتاه الثالثةَ، فقال: مات فلان، فقال رسول الله ﷺ: "كيف مات؟ " قال: نَحَرَ نفسَه بمِشْقَصٍ كان معه، فلم يُصلِّ عليه النبيُّ ﷺ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں ایک شخص کا انتقال ہوا تو ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: فلاں شخص فوت ہو گیا ہے، نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”وہ نہیں مرا۔“ وہ شخص دوسری بار آیا اور عرض کیا کہ فلاں فوت ہو گیا ہے، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”وہ نہیں مرا۔“ جب وہ تیسری مرتبہ آیا اور کہا کہ فلاں فوت ہو گیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”وہ کیسے مرا؟“ اس نے بتایا کہ اس نے اپنے پاس موجود چوڑے پھل والے تیر «مِشْقَصٍ» کے ذریعے خودکشی کر لی ہے، تو نبی کریم ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھائی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا!

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1363
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل سماك بن حرب وأحمد بن مهران الأصبهاني. إسرائيل: هو ابن يونس السبيعي.» [ترقيم الرساله 1363] [ترقيم الشركة 1351]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل سماك بن حرب وأحمد بن مهران الأصبهاني. إسرائيل: هو ابن يونس السبيعي.
درجۂ حدیث: (1) سماک بن حرب اور احمد بن مہران کی وجہ سے سند حسن ہے۔ اسرائیل سے مراد ابن یونس السبیعی ہیں۔
وأخرجه تامًّا ومختصرًا أحمد 34/ (20816) و (20910) و (20977)، والترمذي (1068) من طرق عن إسرائيل بن يونس، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: هذا حديث حسن.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (20816/34) اور ترمذی (1068) نے اسرائیل بن یونس کی سند سے روایت کیا اور ترمذی نے "حسن" کہا۔
وأخرجه تامًّا ومختصرًا أيضًا أحمد (20848) و (20858)، ومسلم (978)، وأبو داود (3185)، وابن ماجه (1526)، والنسائي (2102)، وابن حبان (3093) و (3095) من طرق عن سماك بن حرب، به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه
حوالہ / مصدر: اسے مکمل اور مختصراً احمد، مسلم (978)، ابوداؤد، ابن ماجہ اور نسائی نے سماک بن حرب کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔ حاکم کا استدراک یہاں ان کا سہو ہے۔
والمِشْقص: هو نصل السهم إذا كان طويلًا وليس بالعريض.
(توضیح): "مِشْقَص" سے مراد تیر کا وہ پھل ہے جو لمبا ہو مگر چوڑا نہ ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1363 سے ماخوذ ہے۔