حدیث نمبر: 1360
أخبرَناه علي بن حمشاذَ العَدْل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن بشار، حدثنا أبو همَّام محمد بن الزِّبْرِقان، حدثنا يونس بن عُبيد، عن زياد بن جُبَير بن حيَّة، عن أبيه، عن المغيرة بن شعبة - قال يونس: وحدثني بعضُ أهله أنه رَفَعَه إلى النبي ﷺ قال: الراكبُ يَسيرُ خلفَ الجنازةِ، والماشي عن يَمينِها وشِمالِها قريبًا (1)، والسِّقْط يُصلَّى عليه ويُدعَى لوالديه بالعافيةِ والرَّحمة (2). قال إبراهيم بن أبي طالب في عَقِب هذا الحديث: قولُ (3) يُونُس بن عُبيد: "وحدثني بعضُ أهله أنه رَفَعه إلى النبي ﷺ" روايةٌ ليونُسَ بن عُبيد عن سعيد بن عُبيدِ الله بن جُبير بن حَيَّة.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، فقد احتجَّ في "الصحيح" بحديث المعتمِر، عن سعيد بن عُبيد الله، عن زياد بن جُبَير، عن جُبَير بن حيَّة، عن المغيرة، الحديث الطويل (4). وشاهد هذه الأحاديث حديثُ إسماعيل بن مُسلِم المكي عن أبي الزُّبير:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سوار جنازے کے پیچھے چلے، اور پیدل چلنے والا اس کے دائیں اور بائیں طرف سے قریب ہو کر چلے، اور «سقط» (ناتمام بچہ جو مردہ پیدا ہو) کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کے والدین کے لیے عافیت اور رحمت کی دعا کی جائے گی۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی صحیح میں معتمر کی روایت سے اسی سند کے ساتھ ایک طویل حدیث نقل کی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1360
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره كسابقه
تخریج حدیث «صحيح لغيره كسابقه،» [ترقيم الرساله 1360] [ترقيم الشركة 1348]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: قريبان، والمثبت من "تلخيص الذهبي" ومصادر التخريج.
فنی نکتہ: (1) قلمی نسخوں میں "قریبان" تھا، درست "قریبی" (قربیٰ) ہے جیسا کہ تلخیص الذہبی میں ہے۔
(2) حديث صحيح كسابقه.
درجۂ حدیث: (2) پچھلی روایت کی طرح یہ بھی صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 30/ (18181) عن إسماعيل ابن عُلَيَّة، وأبو داود (3180) من طريق خالد بن عبيد الله الواسطي، كلاهما عن يونس بن عبيد، بهذا الإسناد. قال يونس - عند أحمد -: وأهل زياد يذكرون النبي ﷺ، وأما أنا فلا أحفظه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (18181/30) نے اسماعیل ابن عُلیہ اور ابوداؤد (3180) نے خالد بن عبیداللہ کی سند سے یونس بن عبید کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ یونس کہتے ہیں کہ زیاد کے گھر والے تو اسے مرفوع بتاتے ہیں مگر مجھے (رفع) یاد نہیں۔
(3) في النسخ الخطية: قال، والمثبت من "سنن البيهقي" وهو أوجه.
فنی نکتہ: (3) قلمی نسخوں میں "قال" تھا، درست "قالا" (بیہقی کے مطابق) ہے۔
(4) أخرجه البخاري (3159).
حوالہ / مصدر: (4) اسے بخاری (3159) نے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1360 سے ماخوذ ہے۔