المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
فَضِيلَةُ ثَلَاثَةِ صُفُوفٍ فِي صَلَاةِ الْجِنَازَةِ باب: نمازِ جنازہ میں تین صفیں قائم ہونے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1356
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة، حدثنا عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئُ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، عن شُرَحْبيل بن شَرِيكَ المَعافِري، عن عُلَيِّ بن رباح اللَّخْمي، عن أبي رافع قال: قال رسول الله ﷺ: "من غَسّل ميّتًا فكَتَم عليه، غُفِر له أربعين مرةً، ومن كفَّن ميتًا، كَسَاه الله من سُندسِ وإسْتَبرقِ الجنة، ومن حَفَر لميتٍ قبرًا وأَجنَّه فيه، أُجريَ له من الأجر كأجرِ مَسْكَنٍ سَكَّنه إلى يوم القيامة" (1).
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی میت کو غسل دیا اور اس کے عیوب کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ اس کی چالیس مرتبہ مغفرت فرمائے گا، اور جس نے کسی میت کو کفن پہنایا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے باریک اور دبیز ریشم کے لباس پہنائے گا، اور جس نے کسی میت کے لیے قبر کھودی اور اسے اس میں دفن کیا، تو اس کے لیے قیامت تک ایسے اجر کا سلسلہ جاری کر دیا جاتا ہے جیسے اس نے اسے رہنے کے لیے مکان دے دیا ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده جيد من أجل شرحبيل بن شريك المعافري.
درجۂ حدیث: (1) شرحبیل بن شریک کی وجہ سے سند "جید" (بہترین) ہے۔
وانظر ما سلف برقم (1323).
تکرار: نمبر (1323) ملاحظہ فرمائیں۔
درجۂ حدیث: (1) شرحبیل بن شریک کی وجہ سے سند "جید" (بہترین) ہے۔
وانظر ما سلف برقم (1323).
تکرار: نمبر (1323) ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1356 سے ماخوذ ہے۔