حدیث نمبر: 1357
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون حدثنا محمد بن إسحاق. وأخبرنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا محمد بن محمد بن رجاء بن السِّنْدي، حدثنا يعقوب بن إبراهيم، حدثنا إسماعيل ابن عُلَيّة، عن محمد بن إسحاق، عن يزيد بن أبي حَبِيب، عن مَرْثَد بن عبد الله اليَزَني، عن مالك بن هُبَيرة - وكانت له صحبة - قال: كان إذا أُتي بجنازةٍ ليُصلِّي عليها، فتقالَّ أهلَها، جزّأَهم صفوفًا ثلاثة، فصلَّى بهم عليها، ويقول: إنَّ رسول الله ﷺ قال: "ما صَفَّ صفوفٌ ثلاثةٌ من المسلمين على جنازةٍ، إلَّا أَوجَبَته". هذا لفظ حديث ابن عُلَيّة، وفي حديث المحبوبي: "إلّا غُفِر له" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کے پاس کوئی جنازہ لایا جاتا اور شرکاء کم ہوتے تو وہ ان کی تین صفیں بنا دیتے، پھر ان پر نماز جنازہ پڑھاتے اور فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”جس مسلمان کے جنازے پر تین صفیں بن جائیں، اس کے لیے (جنت) واجب ہو گئی۔“ ابن علیہ کی روایت کے لفظ «اوجبته» ہیں جبکہ محبوبی کی روایت میں «الا غفر له» (مگر اس کی مغفرت کر دی گئی) کے الفاظ ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1357
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، فقد صرَّح محمد بن إسحاق بالتحديث عند الروياني في "مسنده" (1537)، وحسنه الترمذي والنووي وابن حجر.» [ترقيم الرساله 1357] [ترقيم الشركة 1345]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن، فقد صرَّح محمد بن إسحاق بالتحديث عند الروياني في "مسنده" (1537)، وحسنه الترمذي والنووي وابن حجر.
درجۂ حدیث: (2) یہ سند "حسن" ہے؛ محمد بن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے اور علامہ نووی و ابن حجر نے اسے حسن کہا ہے۔
وأخرجه أحمد 27/ (16724)، وأبو داود (3166)، وابن ماجه (1490)، والترمذي (1028) من طرق عن ابن إسحاق، بهذا الإسناد قال الترمذي بعد أن حسنه: هكذا رواه غير واحد عن محمد بن إسحاق، وروى إبراهيم بن سعد عن محمد بن إسحاق هذا الحديث وأدخل بين مرثد ومالك بن هبيرة رجلًا، ورواية هؤلاء أصح عندنا.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (16724/27)، ابوداؤد اور ترمذی نے ابن اسحاق کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے حسن قرار دیا۔
تنبيه: لم نكن قد وقعنا على تصريح ابن إسحاق بالتحديث خلال عملنا في "مسند أحمد" فحُكم على إسناده بالضَّعف لذلك، فليستدرك من هنا.
تنبیہ: پہلے مسند احمد پر کام کے دوران ابن اسحاق کا سماع نہیں ملا تھا اس لیے اسے ضعیف کہا گیا تھا، اب یہاں سے تصحیح کر لی جائے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1357 سے ماخوذ ہے۔