فأخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن (2) الحَجَّاج، قال: سمعت عطاءً يحدِّث عن عُبيد (3) بن عُمَير، قال: كان عمر بن الخطاب يُكبِّر بعد صلاة الفجر من يومِ عرفة إلى صلاة الظهر من آخرِ أيام التشريق (4). وأما حديث علي:
حافظ طلحہ بابر
عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یومِ عرفہ کی نمازِ فجر کے بعد سے ایامِ تشریق کے آخری دن کی نمازِ ظہر تک تکبیرات کہا کرتے تھے۔
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن محمد، حدثنا هنّاد، حدثنا حسين بن علي، عن زائدةَ، عن عاصم، عن شَقِيقٍ قال: كان عليٌّ يكبّر بعد صلاة الفجر غداةَ عرفةَ، ثم لا يقطعُ حتى يُصليَ الإمامُ من آخر أيام التشريق، ثم يكبِّر بعد العصر (1). وأما حديث ابن عباس:
حافظ طلحہ بابر
شقیق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یومِ عرفہ کی صبح کی نماز کے بعد سے تکبیرات کہنا شروع کرتے تھے، پھر انہیں منقطع نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ ایامِ تشریق کے آخری دن جب امام (عصر کی) نماز پڑھ لیتا تو اس کے بعد بھی تکبیر کہتے تھے۔
فحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا الحَكَم بن فَرُّوخ، عن عكرمة، عن ابن عباس: أنه كان يُكبِّر من غداةِ عرفةَ إلى صلاة العصر من آخرِ أيامِ التشريق (1). وأما حديث عبد الله بن مسعود:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ یومِ عرفہ کی صبح سے ایامِ تشریق کے آخری دن کی نمازِ عصر تک تکبیرات کہا کرتے تھے۔
فأخبرناه أبو يحيى أحمد بن محمد السَّمرقندي، حدثنا محمد بن نصر، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا هشيم، عن أبي جناب، عن عُمير بن سعيد قال: قَدِمَ علينا ابن مسعود، فكان يكبِّر من صلاة الصبح يوم عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق (1).
حافظ طلحہ بابر
عمیر بن سعید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے تو وہ یومِ عرفہ کی نمازِ صبح سے ایامِ تشریق کے آخری دن کی نمازِ عصر تک تکبیرات کہا کرتے تھے۔
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد، حدثنا أبي، قال: سمعتُ الأوزاعيَّ - وسُئِلَ عن التكبير يومَ عرفة - فقال: يُكبَّر من غَداةِ عرفة إلى آخرِ أيام التشريق، كما كبَّر عليٌّ وعبد الله (2).
حافظ طلحہ بابر
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے یومِ عرفہ کی تکبیرات کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: یومِ عرفہ کی صبح سے ایامِ تشریق کے آخری دن تک تکبیرات کہی جائیں گی جیسا کہ سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہیں۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة، حدثنا داود بن قيس، عن عِيَاض بن عبد الله، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: كان رسول الله ﷺ يخرج يوم الفِطر فيصلي تَيْنِكَ الرَّكعتين، ثم يُسلِّم، ثم يقوم فيستقبلُ الناسَ وهم جلوسٌ، فيقول: "تَصدَّقُوا تَصدَّقُوا، تَصدَّقُوا"، قال: وكان أكثرَ من يتصدَّق النساءُ بالقُرْط والخاتَم (1). آخر كتاب العيدين [من كتاب الوتر]
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن (عید گاہ) تشریف لاتے اور وہ دو رکعتیں پڑھاتے، پھر سلام پھیرتے، پھر کھڑے ہو کر لوگوں کے سامنے رخ کرتے جبکہ وہ بیٹھے ہوتے، تو آپ ﷺ فرماتے: ”صدقہ کرو، صدقہ کرو، صدقہ کرو“، راوی کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ صدقہ دینے والی خواتین تھیں جو اپنے کانوں کے بالے اور انگوٹھیاں تک پیش کر رہی تھیں۔ [کتاب العیدین کا اختتام - کتاب الوتر کا آغاز]