حدیث نمبر: 1133
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا يحيى بن إسحاق السَّيْلَحِيني، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن عبد الله بن رباح، عن أبي قتادة: أنَّ النبي ﷺ قال لأبي بكر: "متى تُوتِر؟ " قال: أُوتِرُ قبل أن أنام، وقال لعمر: "متى تُوتِر؟ "، قال: أنام ثم أُوتِرُ، فقال لأبي بكر: "أخذتَ بالحَزْم - أو بالوَثِيقة -"، وقال لعمر: "أخذتَ بالقُوّة" (4).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1120 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم وتر کب پڑھتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لیتا ہوں، اور آپ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم وتر کب پڑھتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: میں سو جاتا ہوں پھر (بیدار ہو کر) وتر پڑھتا ہوں، تو آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے احتیاط -یا پختگی- کو اختیار کیا“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے قوت (عزیمت) کو اختیار کیا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک صحیح سند کے ساتھ شاہد بھی موجود ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الوتر / حدیث: 1133
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1133] [ترقيم الشركة 1124] [ترقيم العلميه 1120]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: (4) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (1434) عن محمد بن أحمد بن خلف، عن أبي زكريا يحيى بن إسحاق السيلحيني، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1434) نے یحییٰ بن اسحاق السیلحینی کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وفي الباب أيضًا عن جابر بن عبد الله عند أحمد 22/ (14323)، وابن ماجه (1202)، وإسناده حسن.
متابعات و شواہد: اس باب میں جابر بن عبداللہ کی روایت احمد (14323/22) اور ابن ماجہ (1202) میں حسن سند سے موجود ہے۔
وعن عقبة بن عامر عند الطبراني في "الكبير" 17/ (838)، وإسناده ضعيف
متابعات و شواہد: عقبہ بن عامر کی روایت طبرانی میں ضعیف سند سے مروی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1133 سے ماخوذ ہے۔