کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: عیدین میں تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ زائد تکبیروں کا بیان۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا إسحاق بن عيسى، حدثنا ابن لَهِيعة، عن خالد بن يزيد، عن الزُّهري، عن عُروة، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يُكبِّر في العيدين اثنتي عشْرةَ تكبيرة سوى تكبيرة الافتتاح، ويقرأ بـ: ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ و ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ﴾ (1).
هذا حديث تفرَّد به عبد الله بن لَهِيعة، وقد استَشهد به مسلم في موضعين (2). وفي الباب عن عائشة وابن عمر وأبي هريرة وعبد الله بن عمرو، والطرق إليهم فاسدة. وقد قيل: عن ابن لهيعة عن عُقيل:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1108 - تفرد به ابن لهيعة
هذا حديث تفرَّد به عبد الله بن لَهِيعة، وقد استَشهد به مسلم في موضعين (2). وفي الباب عن عائشة وابن عمر وأبي هريرة وعبد الله بن عمرو، والطرق إليهم فاسدة. وقد قيل: عن ابن لهيعة عن عُقيل:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1108 - تفرد به ابن لهيعة
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عیدین (کی نماز) میں تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ بارہ تکبیریں کہتے تھے، اور آپ ﷺ (نماز میں) ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ اور ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ﴾ کی تلاوت فرماتے تھے۔
یہ حدیث اکیلے عبداللہ بن لہیعہ نے روایت کی ہے، اور امام مسلم نے دو مقامات پر ان سے استشہاد کیا ہے، اس باب میں سیدہ عائشہ، ابن عمر، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مروی ہیں مگر ان کی اسناد ضعیف ہیں، اور ایک قول کے مطابق ابن لہیعہ نے اسے عقیل سے روایت کیا ہے۔
یہ حدیث اکیلے عبداللہ بن لہیعہ نے روایت کی ہے، اور امام مسلم نے دو مقامات پر ان سے استشہاد کیا ہے، اس باب میں سیدہ عائشہ، ابن عمر، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مروی ہیں مگر ان کی اسناد ضعیف ہیں، اور ایک قول کے مطابق ابن لہیعہ نے اسے عقیل سے روایت کیا ہے۔
أخبرَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا عُبيد بن شَرِيك، حدثنا عمرو بن خالد، حدثنا ابن لهِيعة، عن عُقَيل، عن الزُّهري، عن عُروة، عن عائشة أنها قالت: كان النبيُّ ﷺ يُكبِّر في العيدين في الأُولى سبعَ تكبيرات، وفي الثانية خمسَ تكبيرات قبل القراءة (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے۔
حدثنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا محمد بن عبد الله بن ماهان، حدثنا موسى بن حِزَام التِّرمذي، حدثنا أبو أسامة، عن عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر قال: كان رسول الله ﷺ وأبو بكرٍ وعمرُ يُصلُّون العيدين قبلَ الخُطبة (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ! إنما خرَّجا حديث عطاء عن ابن عباسٍ بغير هذا اللفظ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ! إنما خرَّجا حديث عطاء عن ابن عباسٍ بغير هذا اللفظ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما عیدین کی نماز خطبے سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے عطاء کی ابن عباس سے مروی حدیث ان الفاظ کے علاوہ روایت کی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے عطاء کی ابن عباس سے مروی حدیث ان الفاظ کے علاوہ روایت کی ہے۔
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن أبي العَنْبَس القاضي، حدثنا سعيد بن عثمان الخَرّاز (2)، حدثنا عبد الرحمن بن سعد المؤذن، حدثنا فِطْر بن خَليفة، عن أبي الطُّفَيل، عن عليٍّ وعمار أنَّ النبي ﷺ كان يجهَر في المكتوبات ببِسْم الله الرحمن الرحيم، وكان يَقنُت في صلاة الفجر، وكان يُكبِّر من يوم عرفةَ صلاةَ الغَداة، ويَقطعُها صلاةَ العصر آخرَ أيام التشريق (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولا أعلم في رواته منسوبًا إلى الجَرْح! وقد روي في الباب عن جابر بن عبد الله وغيره (1). فأما من فِعلِ عمر، وعليٍّ، وعبد الله بن عباس، وعبد الله بن مسعود، فصحيح عنهم التكبير من غَداةِ عرفة إلى آخر أيام التشريق. فأما الرواية فيه عن عمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1111 - بل خبر واه كأنه موضوع
هذا حديث صحيح الإسناد، ولا أعلم في رواته منسوبًا إلى الجَرْح! وقد روي في الباب عن جابر بن عبد الله وغيره (1). فأما من فِعلِ عمر، وعليٍّ، وعبد الله بن عباس، وعبد الله بن مسعود، فصحيح عنهم التكبير من غَداةِ عرفة إلى آخر أيام التشريق. فأما الرواية فيه عن عمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1111 - بل خبر واه كأنه موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فرض نمازوں میں «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» جہر کے ساتھ (بلند آواز سے) پڑھتے تھے، اور آپ ﷺ نمازِ فجر میں قنوتِ نازلہ پڑھتے تھے، نیز آپ ﷺ یومِ عرفہ کی صبح کی نماز سے تکبیرات شروع فرماتے اور ایامِ تشریق کے آخری دن کی نمازِ عصر پر انہیں ختم فرماتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور میں اس کے راویوں میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو جرح کا شکار ہو، اور اس باب میں جابر بن عبداللہ اور دیگر صحابہ سے بھی روایات مروی ہیں، جبکہ سیدنا عمر، علی، ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے یومِ عرفہ کی صبح سے ایامِ تشریق کے آخری دن تک تکبیرات کہنا صحیح طور پر ثابت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور میں اس کے راویوں میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو جرح کا شکار ہو، اور اس باب میں جابر بن عبداللہ اور دیگر صحابہ سے بھی روایات مروی ہیں، جبکہ سیدنا عمر، علی، ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے یومِ عرفہ کی صبح سے ایامِ تشریق کے آخری دن تک تکبیرات کہنا صحیح طور پر ثابت ہے۔