حدیث نمبر: 1129
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة، حدثنا داود بن قيس، عن عِيَاض بن عبد الله، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: كان رسول الله ﷺ يخرج يوم الفِطر فيصلي تَيْنِكَ الرَّكعتين، ثم يُسلِّم، ثم يقوم فيستقبلُ الناسَ وهم جلوسٌ، فيقول: "تَصدَّقُوا تَصدَّقُوا، تَصدَّقُوا"، قال: وكان أكثرَ من يتصدَّق النساءُ بالقُرْط والخاتَم (1). آخر كتاب العيدين [من كتاب الوتر]
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن (عید گاہ) تشریف لاتے اور وہ دو رکعتیں پڑھاتے، پھر سلام پھیرتے، پھر کھڑے ہو کر لوگوں کے سامنے رخ کرتے جبکہ وہ بیٹھے ہوتے، تو آپ ﷺ فرماتے: ”صدقہ کرو، صدقہ کرو، صدقہ کرو“، راوی کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ صدقہ دینے والی خواتین تھیں جو اپنے کانوں کے بالے اور انگوٹھیاں تک پیش کر رہی تھیں۔ [کتاب العیدین کا اختتام - کتاب الوتر کا آغاز]

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 1129
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وهو مكرر (1102)» [ترقيم الرساله 1129]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. وهو مكرر (1102).
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے اور یہ نمبر (1102) کی تکرار ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1129 سے ماخوذ ہے۔