کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سنت یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں پہلے رکھو اور نکلتے وقت بایاں پاؤں پہلے نکالو۔
حدثنا أبو حفص عمر بن جعفر المفيد البَصْري، حدثنا أبو خَلِيفة القاضي، حدثنا أبو الوليد الطَّيَالسي، حدثنا شدَّاد أبو طلحة قال: سمعت معاويةَ بن قُرَّة يحدِّث عن أنس بن مالك أنه كان يقول: مِن السُّنَّة إذا دخلتَ المسجدَ أن تبدأَ برِجْلِك اليمنى، وإذا خرجتَ أن تبدأ بِرجْلِك اليسرى (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتَجَّ بشدَّاد بن سعيد أبي طلحة الراسِبي، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 791 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتَجَّ بشدَّاد بن سعيد أبي طلحة الراسِبي، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 791 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ سنت ہے کہ جب تم مسجد میں داخل ہو تو پہلے اپنا دایاں پاؤں رکھو اور جب باہر نکلو تو پہلے اپنا بایاں پاؤں رکھو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأزْدي، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدةُ، عن المختار بن فُلفُل، عن أنس: أنَّ النبي ﷺ حَضَّهم على الصلاة، ونَهَاهم أن يَنصرِفوا قبلَ انصرافِه من الصلاة (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 792 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 792 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو نماز کی ترغیب دی اور اس بات سے منع فرمایا کہ وہ آپ ﷺ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے وہاں سے چلے جائیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو علي الحسن بن محمد المقرئ بالكوفة، حدثنا أبو عمر محمد بن جعفر القرشي، حدثنا أبو نُعَيم. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا خلَّاد بن يحيى. وأخبرنا أبو بكر بن أبي نصر المروَزي، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حُذَيفة؛ قالوا: حدثنا سفيان، حدثنا يحيى بن هانئ عن عبد الحميد بن محمود قال: كنت مع أنس بن مالك أصلِّي، قال: فألقَوْنا بين السَّواري، قال: فتأخَّر أنسٌ، فلما صلَّينا قال: إنا كنا نتَّقي هذا على عهدِ رسول الله ﷺ (1).
حافظ طلحہ بابر
عبد الحمید بن محمود بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا، لوگوں نے ہمیں (ہجوم کی وجہ سے) ستونوں کے درمیان کھڑا کر دیا، تو سیدنا انس پیچھے ہٹ گئے اور جب ہم نماز پڑھ چکے تو انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اس (ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے) سے بچا کرتے تھے۔“
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عُبيد بن محمد بن خَلَف، حدثنا عُقْبة بن مُكرَم، حدثنا سَلْم بن قُتيبة، عن هارون بن مُسلِم، عن قَتَادة، عن معاوية بن قُرَّة، عن أبيه قال: كنا نُنهَى عن الصلاة بين السَّوَاري، ونُطرَدُ عنها طردًا (2). كلا الإسنادين صحيحان، ولم يُخرجا في هذا الباب شيئًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 794 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 794 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے سے منع کیا جاتا تھا اور وہاں سے سختی سے ہٹا دیا جاتا تھا۔
یہ دونوں اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اس باب میں کچھ بھی روایت نہیں کیا۔
یہ دونوں اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اس باب میں کچھ بھی روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيع، عن حُمَيد الطويل، عن أنس بن مالك قال: كان رسول الله ﷺ يحبُّ أن يَلِيَه المهاجرون والأنصارُ ليأخذوا عنه (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح في الأَخْذ عنه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 795 - على شرطهما وله شاهد صحيح
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح في الأَخْذ عنه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 795 - على شرطهما وله شاهد صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ مہاجرین اور انصار آپ کے قریب (پہلی صف میں) رہیں تاکہ وہ آپ سے (طریقہ نماز اور دین) سیکھ سکیں۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔