المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
مِنَ السُّنَّةِ إِذَا دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ أَنْ تَبْدَأَ بِرِجْلِكَ الْيُمْنَى وَإِذَا خَرَجْتَ أَنْ تَبْدَأَ بِرِجْلِكَ الْيُسْرَى باب: سنت یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں پہلے رکھو اور نکلتے وقت بایاں پاؤں پہلے نکالو۔
حدیث نمبر: 889
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عُبيد بن محمد بن خَلَف، حدثنا عُقْبة بن مُكرَم، حدثنا سَلْم بن قُتيبة، عن هارون بن مُسلِم، عن قَتَادة، عن معاوية بن قُرَّة، عن أبيه قال: كنا نُنهَى عن الصلاة بين السَّوَاري، ونُطرَدُ عنها طردًا (2). كلا الإسنادين صحيحان، ولم يُخرجا في هذا الباب شيئًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 794 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے سے منع کیا جاتا تھا اور وہاں سے سختی سے ہٹا دیا جاتا تھا۔
یہ دونوں اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اس باب میں کچھ بھی روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل هارون بن مسلم.
درجۂ حدیث: (2) ہارون بن مسلم کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1002)، وابن حبان (2219) من طريقين عن أبي قتيبة سَلْم بن قتيبة، بهذا الإسناد. وقرن ابن ماجه بأبي قتيبة أبا داود الطيالسي، وقرن ابن حبان به يحيى بنَ حماد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1002) اور ابن حبان (2219) نے سلم بن قتیبہ کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (2) ہارون بن مسلم کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1002)، وابن حبان (2219) من طريقين عن أبي قتيبة سَلْم بن قتيبة، بهذا الإسناد. وقرن ابن ماجه بأبي قتيبة أبا داود الطيالسي، وقرن ابن حبان به يحيى بنَ حماد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1002) اور ابن حبان (2219) نے سلم بن قتیبہ کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 889 سے ماخوذ ہے۔