المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
مِنَ السُّنَّةِ إِذَا دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ أَنْ تَبْدَأَ بِرِجْلِكَ الْيُمْنَى وَإِذَا خَرَجْتَ أَنْ تَبْدَأَ بِرِجْلِكَ الْيُسْرَى باب: سنت یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں پہلے رکھو اور نکلتے وقت بایاں پاؤں پہلے نکالو۔
حدیث نمبر: 888
حدثنا أبو علي الحسن بن محمد المقرئ بالكوفة، حدثنا أبو عمر محمد بن جعفر القرشي، حدثنا أبو نُعَيم. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا خلَّاد بن يحيى. وأخبرنا أبو بكر بن أبي نصر المروَزي، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حُذَيفة؛ قالوا: حدثنا سفيان، حدثنا يحيى بن هانئ عن عبد الحميد بن محمود قال: كنت مع أنس بن مالك أصلِّي، قال: فألقَوْنا بين السَّواري، قال: فتأخَّر أنسٌ، فلما صلَّينا قال: إنا كنا نتَّقي هذا على عهدِ رسول الله ﷺ (1).
حافظ طلحہ بابر
عبد الحمید بن محمود بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا، لوگوں نے ہمیں (ہجوم کی وجہ سے) ستونوں کے درمیان کھڑا کر دیا، تو سیدنا انس پیچھے ہٹ گئے اور جب ہم نماز پڑھ چکے تو انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اس (ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے) سے بچا کرتے تھے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، وأبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي، وسفيان: هو الثوري. وقد سلف عند المصنف برقم (856).
درجۂ حدیث: (1) سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابونعیم سے مراد فضل بن دکین، ابوحذیفہ سے مراد موسیٰ بن مسعود اور سفیان سے مراد ثوری ہیں۔ یہ پہلے نمبر (856) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: (1) سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابونعیم سے مراد فضل بن دکین، ابوحذیفہ سے مراد موسیٰ بن مسعود اور سفیان سے مراد ثوری ہیں۔ یہ پہلے نمبر (856) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 888 سے ماخوذ ہے۔