المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
مِنَ السُّنَّةِ إِذَا دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ أَنْ تَبْدَأَ بِرِجْلِكَ الْيُمْنَى وَإِذَا خَرَجْتَ أَنْ تَبْدَأَ بِرِجْلِكَ الْيُسْرَى باب: سنت یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں پہلے رکھو اور نکلتے وقت بایاں پاؤں پہلے نکالو۔
حدیث نمبر: 890
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيع، عن حُمَيد الطويل، عن أنس بن مالك قال: كان رسول الله ﷺ يحبُّ أن يَلِيَه المهاجرون والأنصارُ ليأخذوا عنه (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح في الأَخْذ عنه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 795 - على شرطهما وله شاهد صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ مہاجرین اور انصار آپ کے قریب (پہلی صف میں) رہیں تاکہ وہ آپ سے (طریقہ نماز اور دین) سیکھ سکیں۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العنبري.
وأخرجه أحمد 19/ (11963) و 20/ (13064) و (13135) و 21/ (13774)، وابن ماجه (977)، والنسائي (8253)، وابن حبان (7258) من طرق عن حميد الطويل، به.
درجۂ حدیث: (3) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابومثنیٰ سے مراد معاذ بن مثنیٰ ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد (11963/19 وغیرہ)، ابن ماجہ (977)، نسائی (8253) اور ابن حبان (7258) نے حمید الطویل کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 19/ (11963) و 20/ (13064) و (13135) و 21/ (13774)، وابن ماجه (977)، والنسائي (8253)، وابن حبان (7258) من طرق عن حميد الطويل، به.
درجۂ حدیث: (3) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابومثنیٰ سے مراد معاذ بن مثنیٰ ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد (11963/19 وغیرہ)، ابن ماجہ (977)، نسائی (8253) اور ابن حبان (7258) نے حمید الطویل کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 890 سے ماخوذ ہے۔