کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جب تم میں سے کسی کو نماز میں حدث لاحق ہو جائے تو وہ ناک پکڑ لے، صف سے نکل جائے اور وضو کرے، اور جو شخص حیلوں کے ذریعے فتویٰ دے وہ اسی پر پکڑا جائے گا۔
أخبرنا أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حَدَّثَنَا محمد بن الفَرَج الأزرق، حَدَّثَنَا حجَّاج بن محمد، عن ابن جُرَيج، أخبرني هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: "إذا أحدَثَ أحدُكم في صلاته، فليأخُذ بأنفِه ثم ليَنصرِفْ" (2). تابعه عمر بن علي المُقدَّمي ومحمد بن بِشْر العبدي وغيرهما عن هشام بن عروة، وهو صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 655 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر وہاں سے ہٹ جائے۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 668
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن الفرج الأزرق- وقد اختُلف على هشام بن عروة في وصله وإرساله كما هو مبيَّن في التعليق على "سنن أبي داود" (1114) حيث أخرجه عن إبراهيم بن الحسن المصِّيصي، عن حجاج بن محمد، بهذا الإسناد- ، وأخرجه ابن ماجه (1222) و (1222 ...» [ترقيم الرساله 668] [ترقيم الشركة 660] [ترقيم العلميه 655]
وحدَّثَناه إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حَدَّثَنَا جدِّي، حَدَّثَنَا نُعَيم بن حمّاد، حَدَّثَنَا الفضل بن موسى، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال: "إذا أحدَثَ أحدُكم في صلاته، فليأخُذ بأنفه وليَنصرِفْ فليتوضَّأْ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز کے دوران حدت (ریاح وغیرہ) پیش آئے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر مڑ جائے اور وضو کرے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 669
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن» [ترقيم الرساله 669]
سمعتُ عليَّ بن عمر الدارَقُطْني الحافظ يقول: سمعتُ أبا بكر الشافعي الصَّيرَفي يقول: كلُّ مَن أفتى من أئمَّة المسلمين من الحِيَل، إنما أخَذَه من هذا الحديث.
حافظ طلحہ بابر
امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبکر شافعی صیرفی کو یہ کہتے سنا ہے کہ ائمہ مسلمین میں سے جس کسی نے بھی (شرعی) حیلوں کے بارے میں فتویٰ دیا ہے، اس نے اسی حدیث سے اخذ کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 669M
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 669M] [ترقيم الشركة 661]
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا عبيد الله بن موسى، حَدَّثَنَا الأعمش. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُمَيدي، حَدَّثَنَا سفيان، حَدَّثَنَا الأعمش، عن زيد بن وَهْب، عن عبد الرحمن ابن حَسَنة قال: انطلقتُ أنا وعمرُو بن العاص فخرج علينا رسول الله ﷺ وبيده دَرَقةٌ أو شبيه بالدَّرَقة، فاستَتَرَ بها فبالَ وهو جالس، فقلتُ لصاحبي: ألَا ترى إلى رسول الله ﷺ كيف يبولُ كما تبول المرأة، قال: فأتانا، فقال: "أَلَا تَدرُونَ ما لَقِيَ صاحبُ بني إسرائيل، كان إذا أصاب أحدًا شيءٌ من البولِ قَرَضَه بالمِقْراض، قال: فنهاهم عن ذلك، فعُذِّبَ في قبره" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 657 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نکلے تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں ایک ڈھال تھی، آپ ﷺ نے اس کی اوٹ لی اور بیٹھ کر پیشاب کیا، میں نے اپنے ساتھی سے کہا: ”رسول اللہ ﷺ کو دیکھو کہ وہ عورتوں کی طرح (بیٹھ کر) پیشاب کر رہے ہیں،“ آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم نہیں جانتے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کو کیا پیش آیا؟ جب ان میں سے کسی کو پیشاب کا کوئی قطرہ لگ جاتا تو وہ اسے قینچی سے کاٹ دیتا تھا، اس نے انہیں اس سے روکا تو اسے قبر میں عذاب دیا گیا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 670
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 670] [ترقيم الشركة 662] [ترقيم العلميه 657]
أخبرَناه علي بن عيسى بن إبراهيم، حَدَّثَنَا محمد بن عمرو الحَرَشي حَدَّثَنَا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية. وحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا محمد بن أحمد بن النضر، حَدَّثَنَا معاوية بن عمرو، حَدَّثَنَا زائدة. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا عبد الواحد بن زياد كلهم عن الأعمش، عن زيد بن وَهْب، عن عبد الرحمن بن حَسَنة قال: بالَ رسولُ الله ﷺ وهو مستتر بحَجَفَةٍ، فقالوا: تبولُ كما تبولُ المرأة؟ فقال رسول الله ﷺ: "إنَّ بني إسرائيل كان إذا أصاب أحدَهم البولُ قَرَضَه بالمقاريض، ونهَاهم عن ذلك، فهو يُعذَّبُ في قبره" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ومن شرط الشيخين إلى أن يَبلُغ تفرُّدَ زيد بن وهب بالرواية عن عبد الرحمن بن حَسَنة، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال کی اوٹ میں بیٹھ کر پیشاب کیا، تو لوگوں نے کہا: ”آپ ﷺ اس طرح (بیٹھ کر) پیشاب کرتے ہیں جیسے عورت کرتی ہے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کا یہ حال تھا کہ جب ان میں سے کسی کو پیشاب کا کوئی قطرہ لگ جاتا تو وہ اسے قینچیوں سے کاٹ ڈالتے تھے، اور ان کے عالم نے انہیں اس سے روکا تھا، تو اسے قبر میں عذاب دیا گیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین کی شرط پر ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 671
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، وزائدة: هو ابن قدامة» [ترقيم الرساله 671] [ترقيم الشركة 663]
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أُسِيد بن عاصم، حَدَّثَنَا الحسين بن حفص، عن سفيان. وأخبرنا أبو منصور محمد بن القاسم العَتَكي، حَدَّثَنَا أحمد بن نصر، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا سفيان. وأخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارِمي، حَدَّثَنَا محمد بن كَثِير، حَدَّثَنَا سفيان، عن المِقْدام بن شُرَيح، حدَّثني أبي، عن عائشة أنها قالت: ما بالَ رسولُ الله قائمًا منذ أُنزِلَ عليه الفُرقان (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 659 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سے رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوا، آپ ﷺ نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 672
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وقد سلف برقم (656)» [ترقيم الرساله 672] [ترقيم الشركة 664] [ترقيم العلميه 659]
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن المِقْدام بن شُريح، عن أبيه قال: سمعتُ عائشةَ تُقسِمَ بالله ما رأَى أحدٌ رسولَ الله ﷺ يبول قائمًا منذ أُنزِلَ عليه الفُرقان (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والذي عندي أنهما لِمَا اتَّفقا على حديث منصور عن أبي وائل عن حُذيفة: أنَّ رسول الله ﷺ أَتى سُبَاطةَ قوم فبال قائمًا (3)، وَجَدَا حديث المقدام عن أبيه عن عائشة معارِضًا له فترَكاه، والله أعلم. وله شاهد من حديث المكيِّين:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مقدام بن شریح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اللہ کی قسم کھاتے ہوئے سنا کہ جب سے رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوا کسی نے آپ ﷺ کو کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، میرے نزدیک انہوں نے اسے اس لیے چھوڑ دیا کیونکہ یہ سیدنا عائشہ کی روایت سیدنا حذیفہ کی روایت کے بظاہر معارض تھی جس میں آپ ﷺ کا کھڑے ہو کر پیشاب کرنا ثابت ہے، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 673
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وانظر ما قبله» [ترقيم الرساله 673] [ترقيم الشركة 665]
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني محمد بن مهدي، حَدَّثَنَا عبد الرزاق، عن ابن جُرَيج، عن عبد الكريم بن أبي المُخارِق، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر قال: رآني رسولُ الله ﷺ وأنا أبولُ قائمًا، فقال: "يا عمرُ، لا تَبُل قائمًا"، قال: فما بُلْتُ قائمًا بعدُ (4). ورُوي عن أبي هريرة عن النَّبِيّ ﷺ في النهي عنه (5).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”اے عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو،“ اس کے بعد میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 674
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف عبد الكريم بن أبي المخارق» [ترقيم الرساله 674] [ترقيم الشركة 666]